Recitation
خط کے جواب میں۔۱۹۔۲۷ ۔ حیدر علی آتشؔ
۱۹
دریا سے کیا نہا کے پھرا ہے وہ بحرِ حُسن
عالم سیہ ہے چشمِ سفیدِ حباب میں
۲۰
اے شہ سوار گورِ غریباں میں آ نکل
اپنی بھی مشت خاک ہو تیری رکاب میں
۲۱
دنیا سے رسم و راہ محبت کی اُٹھ گئی
سنتے ہیں اب تو عاشق و معشوق ڈاب میں
۲۲
وہ مست ہوں خمار سے جب درد سر ہوا
صندل لگایا میں نے رگڑ کر شراب میں
۲۳
رخسار سے رہا دہنِ یار ناپدید
مطلب دقیق تھا نہ سمایا کتاب میں
۲۴
سرخ و سفید رنگ کیا جسم یار کا
میدا خمیر کر کے فضا نے شہاب میں
۲۵
آ جائے شام سے تو نہ جانے دوں صبح تک
اس ماہِ چار دہ کو شبِ ماہتاب میں
۲۶
بینی و چشم و لب رخِ رنگینِ یار پر
گلہائے چیدہ ہیں چمنِ اِنتخاب میں
۲۷
آتشؔ صنم بھی کرنے لگے بے نیازیاں
ہیں لاکھ لاکھ شکر خدا کی جناب میں
خواجہ حیدر علی آتشؔ (۱۷۷۸۔۱۸۴۹) فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک صوفی خاندان سے تھے، جو بنیادی طور پر بغداد کا رہنے والا تھا اور وہاں سے ہجرت کر کے دہلی آیا تھا۔ حیدر علی کے والد علی بخش فیض آباد آ کر رہنے لگے تھے، جہاں حیدر علی آتشؔ کی پیدائش ہوئی۔ جب وہ چھوٹے بچے تھے تب ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے وہ کوئی باقاعدہ اسکول کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔ انہوں نے فیض آباد کے نواب کے ہاں کسی عہدے پر کام کیا اور ۱۸۰۴ میں لکھنؤ چلے گئے۔ مانا جاتا ہے کہ وہ چھوٹی عمر سے ہی شاعری کرنے لگے تھے اور فیض آباد کی ادبی محفلوں میں حصہ لیتے تھے، لیکن لکھنؤ جانے سے پہلے کی ان کی لکھی ہوئی کسی چیز کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔ وہ مصحفی کے شاگرد تھے اور انہوں نے فارسی اور اردو دونوں میں لکھا۔ انہیں اودھ کے دربار سے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا جو ان کے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے بمشکل ہی پورا ہوتا تھا۔ کچھ شاگرد کبھی کبھار مدد کر دیا کرتے تھے، جسے وہ قبول کر لیتے تھے لیکن انہوں نے دربار یا کسی اور کی سرپرستی قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ بڑھاپے میں ان کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی تھی اور ان کے بیٹے نے ان کا سہارا بن کر انہیں سنبھالا۔ آتشؔ نے جسمانی اور ظاہری لذتوں کے بارے میں دوسرے بہت سے شاعروں کے مقابلے میں زیادہ کھل کر لکھا ہے
۱۹
دریا سے کیا نہا کے پھرا۱ ہے وہ بحرِ۲ حُسن
عالم سیہ۳ ہے چشمِ۴ سفیدِ حباب۵ میں
۱۔واپس پلٹا ۲۔سمندر ۳۔کالا، اندھیرا ۴۔آنکھ ۵۔بُلبُلا
محبوب کو حُسن کا ایک سمندر بتایا گیا ہے جو دریا میں نہانے کے بعد باہر نکل رہا ہے۔ اُس کے آس پاس بہت سے حباب (بلبلے) بن رہے ہیں۔ ان بلبلوں کو ‘چشمِ سفیدِ حباب’ یعنی بلبلوں کی اندھی یا سفید آنکھیں کہا گیا ہے۔ ‘چشمِ سفید’ ایسی آنکھ کو کہتے ہیں جو روتے روتے سفید ہو جائے (کیونکہ کالی پتلی کو ہی دیکھنے کا ذریعہ مانا جاتا ہے)۔ بالکل اسی طرح جیسے قرآن اور بائبل کی مشہور کہانی میں آتا ہے کہ یعقوب اپنے چہیتے بیٹے یوسف کی جُدائی میں اتنا روئے کہ اُن کی آنکھوں کی پتلیاں دھل گئیں، آنکھیں سفید ہو گئیں اور وہ اندھے ہو گئے۔ ‘عالم سیہ ہونا’ (دنیا اندھیر ہو جانا) بھی ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے بینائی کا چلے جانا، کچھ نہ دکھائی دینا اور چاروں طرف صرف اندھیرا ہونا۔ چنانچہ دریا کا دکھ اتنا زیادہ ہے کہ وہ محبوب کی جدائی میں اتنا روتا ہے کہ اس کی آنکھیں (بلبلے) سفید اور اندھی ہو جاتی ہیں۔ کچھ سالوں بعد میر انیسؔ نے بھی بالکل یہی خیال لکھا تھا
مِثالِ ماہیِ بے آب موجیں تڑپا کیں
حباب پھوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے
۲۰
اے شہ سوار۱ گورِ۲ غریباں۳ میں آ نکل
اپنی بھی مُشتِ۴ خاک ہو تیری رکاب۵ میں
۱۔گھوڑا سوار ۲۔قبر ۳۔فراقی، عاشق ۴۔مّٹّھی بھر ۵۔stirrup
شاعر مر چکا ہے، دفن ہو چکا ہے اور مِٹّی میں مل چکا ہے۔ پھر بھی وہ اپنے محبوب (شہ سوار) کو پکارتا ہے کہ وہ اس کی قبر کے پاس سے گزرے تاکہ اس کی مٹی (مشتِ خاک) محبوب کی رکاب کو چھو سکے۔ یہ استعارہ عاجزی اور سچی محبت کو آپس میں جوڑتا ہے: موت کے بعد بھی عاشق محبوب کا قرب چاہتا ہے، لیکن اس کے قدموں کے پاس۔
۲۱
دنیا سے رسم و راہ۱ محبت کی اُٹھ گئی
سنتے ہیں اب تو عاشق و معشوق ڈاب۲ میں
۱۔طور طریقے ۲۔کمر پیٹی میں تلوار کی نیام
یہ شعر ایک انوکھی تصویر پیش کرتا ہے، شاید اسی لیے آتشؔ افسوس کر رہے ہیں کہ دنیا سے محبت کی پرانی رسمیں اور طور طریقے ختم ہو چکے ہیں۔ اب عاشق اور معشوق دونوں ‘ڈاب’ میں ہیں، یعنی انہوں نے تلوار کے چمڑے کے بیلٹ باندھ لیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان کے درمیان کھل کر لڑائی ہو رہی ہے، جبکہ پہلے محبت میں روایتی لاڈ، نخرے، چھیڑ چھاڑ اور محبوب کے ظلم کو ہنس کر سہہ لینا ہوا کرتا تھا۔
۲۲
وہ مست ہوں خُمار سے جب دردِ سر ہوا
صندل لگایا میں نے رگڑ کر شراب میں
۱۔مدہوشی، hang-over
یہ شعر شاعر کی مستی اور دیوانگی کی انتہا کو ایک الگ ہی انداز میں دکھاتا ہے۔ عام طور پر اگر کسی کو نشے کے بعد hang-over (خُمار) کی وجہ سے سر درد ہو، تو وہ صندل کو پانی کے ساتھ رگڑ کر ماتھے پر لگاتا ہے تاکہ ٹھنڈک اور آرام ملے۔ لیکن شاعر اپنی محبت اور شراب کی مستی میں اس قدر ڈوبا ہوا ہے کہ وہ پانی کے بجائے صندل کو شراب ہی میں رگڑ کر لگا رہا ہے۔ یعنی وہ شراب سے ہونے والی بیماری کا علاج شراب ہی سے کر رہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی اس مستی کی حالت سے باہر آنا ہی نہیں چاہتا۔
۲۳
رُخسار۱ سے رہا دہنِ۲ یار ناپدید۳
مطلب۴ دقیق۵ تھا نہ سمایا کتاب میں
۱۔چہرہ ۲۔منھ ۳۔دِکھائی نہ دینے والا، invisible ۴۔معنی ۵۔باریک، لطیف
اُردو شاعری کی روایت میں خوبصورتی کا ایک معیار یہ ہے کہ محبوب کا منہ بہت چھوٹا ہو، اتنا چھوٹا کہ نہ ہونے کے برابر لگے؛ بالکل ویسے ہی جیسے پتلی کمر کی تعریف کی جاتی ہے۔ اسی لیے محبوب کو اکثر ‘بے دہن’ (بغیر منہ کے) یا بغیر کمر کے بتایا جاتا ہے۔ ایک اور عام استعمال ہونے والا لفظ ‘کتابی چہرہ’ ہے، جہاں چہرے کو ایک کتاب کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ یہ شعر الفاظ کا ایک خوبصورت کھیل دکھاتا ہے۔ پہلا مصرع کہتا ہے کہ محبوب کا منہ اس کے چہرے پر دکھائی نہیں دیتا (ناپدید ہے)۔ دوسرا مصرع اسی کے برابر کی ایک بات کہتا ہے کہ مطلب اتنا گہرا اور باریک (دقیق) تھا کہ کتاب کے الفاظ میں سما ہی نہ سکا—یعنی وہ مطلب بھی منہ کی طرح غائب یا چھپا ہوا ہے۔
۲۴
سرخ و سفید رنگ کیا جسم یار کا
میدا۱ خمیر۲ کر کے فضا۳ نے شہاب۴ میں
۱۔آٹا ۲۔گوندھ کر ۳۔ہوا، قدرت ۴۔لال رنگ، ٹوٹتا ستارا، comet, meteor
یہاں ‘شِہاب’ یا ‘شِہاب’ لفظ کو بڑی چلاکی سے استعمال کیا گیا ہے اور یہ صاف نہیں کیا گیا کہ یہ کون سا لفظ ہے، کیونکہ لکھنے میں زیر یا زبر کا فرق بہت کم ہی دکھایا جاتا ہے۔ ایک کا مطلب سرخ رنگ ہے اور دوسرے کا مطلب ٹوٹتا ہوا تارا یا ستاروں کی دھول (stardust) ہے۔ یہاں یہ دونوں ہی مطلب فٹ بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ، فضا یعنی قدرت نے سفید چنے ہوئے میدے کو سرخ رنگ یا ستاروں کی چمکتی ہوئی دھول میں گوندھ کر محبوب کے جسم کو گورا اور گلابی بنایا ہے۔
۲۵
آ جائے شام سے تو نہ جانے دوں صبح تک
اس ماہِ۱ چار دہ۲ کو شبِ ماہتاب۳ میں
۱۔چاند ۲۔چودھویں، چودہ ۳۔مُکمّل چاند
یہ شعر الفاظ کا ایک بہت پیارا اور دلچسپ کھیل ہے، جس میں شاعر ایک ایسی بات کا کریڈٹ خود لے رہا ہے جو ویسے بھی ہونے ہی والی ہے۔ جب چودھویں کا چاند رات کے آسمان پر شام کو نکلتا ہے، تو یہ لازمی ہے کہ وہ صبح تک آسمان میں ہی رہے گا۔ شاعر اپنے محبوب کا موازنہ چودھویں کے چاند سے کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ اگر وہ آج رات آ جائے تو وہ اسے صبح تک رکنے پر مجبور کر دے گا—بالکل آسمان کے چودھویں کے چاند کی طرح۔
۲۶
بینی۱ و چشم۲ و لب رُخِ۳ رنگینِ یار پر
گلہائے۴ چیدہ۵ ہیں چمنِ اِنتخاب۶ میں
۱۔ناک ۲۔آنکھ ۳۔چہرہ ۴۔گُل کی جمع ۵۔چُنے ہوئے ۶۔خاص
شاعر محبوب کے چہرے کے ہر نقش—آنکھ، ناک، ہونٹ—کو کسی خاص اور چنے ہوئے باغ کے چیدہ (چنے ہوئے) پھولوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ یہ ‘چمنِ انتخاب’ خدا کی کاریگری کو ظاہر کرتا ہے: کائنات کی ہر چیز خوبصورتی کا ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔ اگر اسے گہرائی میں دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پوری کائنات خدا کے بہترین انتخاب اور خوبصورت ڈیزائن کا ایک مظہر ہے۔
۲۷
آتشؔ صنم بھی کرنے لگے بے نیازیاں
ہیں لاکھ لاکھ شکر خدا کی جناب میں
اوپر اوپر سے دیکھنے پر یہ شعر اُلٹا، طنزیہ یا سارکاسٹک لگ سکتا ہے، لیکن اس میں الفاظ کا ایک باریک کھیل ہے جو اسے بہت معنی خیز بناتا ہے۔ سب سے پہلے اس بات پر غور کریں کہ محبوب نے کچھ کرنا ‘شروع کر دیا ہے’ (کرنے لگے ہیں)، یعنی پہلے وہ ایسا نہیں کرتی تھی۔ اس نے ‘بے نیازیاں’ کرنا یعنی اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ ایک جان بوجھ کر کیا جانے والا عمل ہے، یعنی یہ بے نیازی صرف دکھاوے کی ہے تاکہ عاشق کو تڑپایا جا سکے۔ ظاہر ہے یہی وہ وجہ ہے جس پر خدا کے دربار میں ‘لاکھوں شکر’ ادا کیا جا رہا ہے۔ اس کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ‘صنم’ بت کو بھی کہتے ہیں جو کسی دیوتا کی مورت ہوتی ہے۔ وہ ایک دیوتا کی بے نیازی پر خدا کے حضور شکر ادا کر رہا ہے۔
ख़त के जवाब में-१९-२७ – हैदर अली आतिश
१९
दर्या से क्या नहा के फिरा है वो बहर-ए हुस्न
आलम सिय’ह है चश्म-ए सफ़ेद-ए हबाब में
२०
अए शह-सवार गोर-ए ग़रीबाँ में आ निकल
अपनी भी मुश्त-ए ख़ाक हो तेरी रकाब में
२१
दुनिया से रस्म-ओ-राह मोहब्बत की उठ गई
सुनते हैं अब तो आशिक़-ओ-मा’शूक़ डाब में
२२
वो मस्त हूँ ख़ुमार से जब दर्द-ए सर हुआ
संदल लगाया मैं ने रगड़ कर शराब में
२३
रुख़्सार से रहा दहन-ए यार नापदीद
मतलब दक़ीक था न समाया किताब में
२४
सुर्ख़ ओ सफ़ेद रंग किया जिस्म-ए यार का
मैदा ख़मीर कर के फ़ज़ा ने शहाब में
२५
आ जाए शाम से तो न जाने दूँ सुब्ह तक
उस माह-ए चार-दह को शब-ए महताब में
२६
बीनी ओ चश्म ओ लब रुख़-ए रंगीन-ए यार पर
गुल’हा-ए चीदा हैं चमन-ए इन्तेख़ाब में
२७
आतिश सनम भी करने लगे बे-नियाज़ियाँ
हैं लाख लाख शुक्र ख़ुदा की जनाब में
ख़्वाजा हैदर अली आतिश (१७७८-१८४९) का जन्म फ़ैज़ाबाद में हुआ था। वो एक सूफ़ी परिवार से थे, जो मूल रूप से बग़्दाद का रहने वाला था और वहाँ से माइग्रेट कर के दिल्ली आया था। हैदर अली के पिता अली बख़्श फ़ैज़ाबाद में आ कर रहने लगे थे, जहाँ हैदर अली आतिश पैदा हुए। जब वो छोटे बच्चे थे तभी उनके पिता का देहांत हो गया, जिस की वजह से वो कोई फॉर्मल (स्कूली) पढ़ाई-लिखाई हासिल नहीं कर पाए। उन्होंने फ़ैज़ाबाद के नवाब के यहाँ किसी पद पर काम किया और १८०४ में लखनऊ चले गए। माना जाता है के वो छोटी उम्र से ही शा’एरी करने लगे थे और फ़ैज़ाबाद की साहित्यिक महफ़िलों में हिस्सा लेते थे, लेकिन लखनऊ जाने से पहले की उनकी लिखी हुई किसी चीज़ का कोई रेकॉर्ड नहीं मिलता। वो मुस’हफ़ी के शागिर्द (शिष्य) थे और उन्हों ने फ़ारसी और उर्दू दोनों में लिखा। उन्हें अवध के दरबार से हर महीने वज़ीफ़ा (पेंशन) मिलता था जो उनके परिवार का पेट पालने के लिए बमुश्किल ही पूरा होता था। कुछ शागिर्द कभी-कभार मदद कर दिया करते थे, जिसे वो रख लेते थे लेकिन उन्होंने किसी और की सरपरस्ती या मदद लेने से साफ़ इन्कार कर दिया। बुढ़ापे में उन की आँखों की रोशनी चली गई थी और उनके बेटे ने उनको सहारा दिया। आतिश ने शारीरिक और जिस्मानी सुखों के बारे में दूसरे कई शो’अरा के मुक़ाबले ज़्यादा खुल कर लिखा है।
१९
दर्या१ से क्या नहा के फिरा२ है वो बहर-ए-हुस्न३
आलम४ सिय’ह५ है चश्म-ए-सफ़ेद६-ए हबाब७ में
१-नदी २-पलत आया ३-सुंदरता का समंदर ४-दुनिया ५-काला, अंधेरा ६-जिस आंख कि काली पुतली बह गई हो, अंधा ७-बुल्बुला
महबूब को सुंदरता का एक समंदर बताया गया है जो नदी (दर्या) में नहाने के बाद बाहर निकल रहा है। उस के आस-पास बहुत से हबाब (बुल्बुले) बन रहे हैं। इन बुल्बुलों को ‘चश्म-ए सफ़ेद-ए हबाब’ यानी बुल्बुलों की अंधी या सफ़ेद आँखें कहा गया है। ‘चश्म-ए सफ़ेद’ ऐसी आँख को कहते हैं जो रोते-रोते सफ़ेद हो जाए (क्यूंके काली पुतली को ही देखने का ज़रिया माना जाता है)। बिल्कुल उसी तरह जैसे पौराणिक/क़ुरानिक कहानी में आता है के याक़ूब अपने प्यारे बेटे यूसुफ़ की जुदाई में इतना रोए के उनकी आँखों की पुतलियाँ धुल गईं, आँखें सफ़ेद हो गईं और वो अंधे हो गए। ‘आलम सिय’ह होना’ (दुनिया अंधेर हो जाना) भी एक मुहावरा है जिस का मतलब है आँखों की रोशनी चली जाना, कुछ न दिखाई देना और चारों तरफ़ सिर्फ़ अंधेरा होना। इस लिए, नदी का दुःख इतना ज़्यादा है के वो महबूब की जुदाई में इतना रोती है के उसकी आँखें (बुल्बुले) सफ़ेद और अंधी हो जाती हैं। कुछ सालों बाद मीर अनीस ने भी बिल्कुल यही बात लिखी थी:
मिसाल-ए माही-ए बे-आब मौजें तड़पा कीं
हबाब फूट के रोए जो तुम नहा के चले
२०
अए शह-सवार१ गोर२-ए ग़रीबाँ३ में आ निकल
अपनी भी मुश्त४-ए ख़ाक हो तेरी रकाब५ में
१-घोढा-सवार, महबूब २-क़ब्र ३-घर से दूर, अकेला ४-मुट्ठी भर ५-stirrup
कवि मर चुका है, दफ़्न हो चुका है और मिट्टी में मिल चुका है। फिर भी वो अपने महबूब (शह-सवार) को पुकारता है के वो उसकी क़ब्र के पास से गुज़रे ताके उसकी मिट्टी (मुश्त-ए ख़ाक) महबूब की रकाब (stirrup, पायदान) को छू सके। ये रूपक/लक्षण (metaphor) सादगी और सच्ची मोहब्बत दिखाती है: मौत के बाद भी प्रेमी महबूब का साथ चाहता है, लेकिन उसके क़द्मों के पास।
२१
दुनिया से रस्म-ओ-राह१ मोहब्बत की उठ गई
सुनते हैं अब तो आशिक़२-ओ-मा’शूक़३ डाब४ में
१-रीति रिवाज २-प्रेमी ३-प्रेमिका ४-कमर से तल्वार बांधे हुए
ये शे’र एक अनोखी तस्वीर पेश करता है, शा’एद इसीलिए आतिश अफ़्सोस कर रहे हैं के दुनिया से प्यार के पुराने रीति-रिवाज ख़त्म हो चुके हैं। अब आशिक़ और माशूक़ दोनों ‘डाब’ में हैं, यानी उन्होंने तलवार बाँधने वाली चमड़े की बेल्ट पहन ली है। इसका मतलब ये है के अब उनके बीच खुलकर लड़ाई हो रही है, जबके पहले प्यार में पारंपरिक लाड, नख़रे, छेड़छाड़ और महबूब के ज़ुल्म को हँसकर सह लेना हुआ करता था।
२२
वो मस्त हूँ ख़ुमार१ से जब दर्द-ए सर हुआ
संदल लगाया मैं ने रगड़ कर शराब में
१-नशा
ये शे’र कवि के दीवानेपन और दीवानगी की हद को एक अलग ही अंदाज़ में दिखाता है। आ’म तौर पर अगर किसी को नशा उतरने के बाद (ख़ुमार) से सर दर्द हो, तो वो संदल को पानी के साथ रगड़कर माथे पर लगाता है ताके ठंडक और आराम मिले। लेकिन कवि अपने प्यार और शराब की मस्ती में इस क़दर डूबा हुआ है के वो पानी के बजाए संदल को शराब में ही रगड़कर लगा रहा है। यानी वो शराब से होने वाली मरज़ का इलाज शराब से ही कर रहा है, जिस से पता चलता है के वो अपनी इस मस्ती की हालत से बाहर आना ही नहीं चाहता।
२३
रुख़्सार१ से रहा दहन२-ए यार३ नापदीद४
मतलब५ दक़ीक़६ था न समाया किताब में
१-चेहरा २-मुंह, होंट ३-महबूब ४-अदृष्य, ग़ा’एब ५-मा’नी ६-बारीक
उर्दू शा’एरी की परंपरा में ख़ूबसूरती का एक पैमाना ये है के महबूब का मुँह बहुत महीन/वारीक हो, इतना छोटा के न होने के बराबर लगे; बिल्कुल वैसे ही जैसे पतली कमर की तारीफ़ की जाती है। इसी लिये महबूब को अक्सर बिना मुँह के या बिना कमर के बताया जाता है। एक और आ’म इस्तेमाल होने वाला मुहावरा ‘किताबी चेहरा’ है, जहाँ चेहरे को एक किताब की तरह पेश किया जाता है। ये शे’र शब्दों का एक ख़ूबसूरत खेल दिखाता है। पहली लाइन (मिसरा) कहती है के महबूब का मुँह उसके चेहरे (रुख़्सार) पर दिखाई नहीं देता (नापदीद है)। दूसरी लाइन इसी के बराबर की एक बात कहती है के लेख का मतलब/मा’नी इतना गहरा और बारीक (दक़ीक़) था के किताब के शब्दों में समा ही न सका—यानी वो मतलब भी मुँह की तरह छुपा हुआ है।
२४
सुर्ख़१ ओ सफ़ेद रंग किया जिस्म२-ए यार३ का
मैदा ख़मीर४ कर के फ़ज़ा५ ने शहाब६ में
१-लाल २-बदन ३-महबूब ४-गूंध ५-हवा, प्रकृति
यहाँ ‘शहाब/शिहाब’ शब्द को बड़ी चालाकी से इस्तेमाल किया गया है और ये साफ़ नहीं किया गया के ये कौन सा शब्द है, क्यूंके लिखने में ज़ेर या ज़बर का फ़र्क़ बहुत कम ही दिखाया जाता है। एक का मतलब लाल रंग है और दूसरे का मतलब दुमदार टूटता हुआ तारा या सितारों की धूल (stardust) है। यहाँ ये दोनों ही मतलब सही बैठते हैं। इस लिये, फ़ज़ा यानी प्रकृति ने सफ़ेद छने हुए मैदे को लाल रंग या सितारों की चमकती हुई धूल में गूँध कर महबूब के जिस्म को गोरा और गुलाबी बनाया है।
२५
आ जाए शाम से तो न जाने दूँ सुब्ह तक
उस माह१-ए चार-दह२ को शब३-ए महताब४ में
१-चांद २-चौधवीं ३-रात ४-पूर्णिमा
ये शे’र शब्दों का एक बहुत प्यारा और मज़ेदार खेल है, जिस में कवि एक ऐसी बात की क्रेडिट ख़ुद ले रहा है जो वैसे भी होने ही वाली है। जब चौधवीं का चाँद रात के आस्मान में शाम के वक़्त निकलता है, तो ये तय है के वो सुब्ह तक आस्मान में ही रहेगा। कवि अपने महबूब की तुलना चौधवीं के चाँद से करते हुए दावा करता है के अगर वो आज रात आ जाए तो वो उसे सुब्ह तक रुकने पर मज्बूर कर देगा—बिल्कुल आसमान के चौधवीं के चाँद की तरह।
२६
बीनी१ ओ चश्म२ ओ लब३ रुख़४-ए रंगीन-ए यार५ पर
गुल’हा६-ए चीदा७ हैं चमन-ए इन्तेख़ाब८ में
१-नाक २-आंख ३-होंट ४-चेहरा ५-महबूब ६-फूल का बहुवचन ७-चुना हुआ ८-ख़ास
कवि महबूब के चेहरे के हर हिस्से—आँख, नाक, होंट—को किसी ख़ास और चुने हुए बाग़ के चुने हुए (चीदा) फूलों से जोड़ता है। ये ‘चमन-ए इन्तेख़ाब’ ईश्वर की कारीगरी को दिखाता है: सृष्टि का हर हिस्सा ख़ूबसूरती का एक सोचा-समझा फ़ैसला है। अगर इसे गहराई से देखा जाए तो इसका मतलब ये है के ये पूरी का’एनात ईश्वर के बेहतरीन चुनाव और ख़ूबसूरत डिज़ाइन का एक रूप है।
२७
आतिश१ सनम भी करने लगे बे-नियाज़ियाँ२
हैं लाख लाख शुक्र ख़ुदा की जनाब३ में
१-उपनाम २-अंजान, अंदेखा कर देना, बेरुख़ी ३-हुज़ूर
ऊपर-ऊपर से देखने पर ये शे’र उल्टा, व्यंग्यात्मक (sarcastic) लग सकता है, लेकिन इसमें शब्दों का एक बारीक खेल है जो इसे बहुत अर्थपूर्ण बनाता है। सब से पहले इस बात पर ध्यान दें के महबूब ने कुछ करना ‘शुरू कर दिया है’ (करने लगे हैं), यानी पहले वो ऐसा नहीं करती थी। उसने ‘बे-नियाज़ियाँ’ (बेरुख़ी) करना यानी उसकी प्रैक्टिस करना शुरू कर दी है। इस से ये इशारा मिलता है के ये एक जान-बूझकर किया जाने वाला काम है, यानी ये बेरुख़ी सिर्फ़ दिखावे की है ताके आशिक़ को तड़पाया जा सके। ज़ाहिर है यही वो वजह है जिस पर भगवान के दरबार में ‘लाखों-लाख शुक्र’ अदा किये जा रहे हैं। इस का एक और मज़ेदार पहलू ये है के ‘सनम’ मूर्ति को भी कहते हैं जो किसी देवता का रूप होती है। वो एक मूर्ति/दवता की बेरुख़ी पर भगवान के सामने शुक्र अदा कर रहा है।
Khat ke javaab meN-19-27-haidar ali aatish
19
darya se kya nahaa ke phira hai vo bahr-e husn
aalam siy’h hai chashm-e safed-e habaab meN
20
aye shahsavaar gor-e Ghareebaan meN aa nikal
apni bhi musht-e Khaak ho teri rakaab meN
21
duniya se rasm-o-raah mohabbat ki uTh ga’ii
sunt’e haiN ab to aashiq-o-ma’shuq Daab meN
22
vo mast huN Khumaar se jab dard-e sar hua
sandal lagaaya maiN n’e ragaR kar sharaab meN
23
ruKhsaar se raha dahn-e yaar naapadiid
matlab daqiiq tha na samaaya kitaab meN
24
surKh o safed raNg kiya jism-e yaar ka
meida Khamiir kar ke fiza ne shahaab meN
25
aa jaa’e shaam se to na jaan’e duN sub’h tak
us maah-e chaardah ko shab-e mahtaab meN
26
biini o chashm o lab ruKh-e raNgiin-e yaar par
gul’haa-e chiida haiN chaman-e inteKhaab meN
27
aatish sanam bhi karn’e lag’e be-niyaaziyaaN
haiN laakh laakh shukr Khuda ki janaab meN
Khwaaja haider ali aatish (1778-1849), was born in faizabad. He was from a sufi family, originally from baGhdaad, who migrated to dehli. haidar ali’s father ali baKhsh came to live in faizabad, where haidar ali aatish was born. His father died when he was a young child and he did not receive any formal schooling. He worked for the nawab of faizabad in some capacity and moved to lukhnau in 1804. It is thought that he composed poetry from a young age and was active in poetic circles in faizabad, but there is no record of anything he wrote, except after he moved to lukhnau. He was a disciple of mus’hafi and wrote both in faarsi and urdu. He received a monthly pension from the avadh court which was barely enough to feed his family. Some disciples helped occasionally, which he accepted but refused all other patronage. He lost his eyesight in old age and his son supported him. aatish wrote more explicitly than most about the pleasures of the flesh.
19
darya1 se kya nahaa2 ke phira3 hai vo bahr-e-husn4
aalam5 siy’h6 hai chashm-e-safed7-e habaab8 meN
1.river, sea 2.bathing 3.turned back, returned 4.ocean of beauty 5.world 6.dark 7.blind eye 8.bubble
The beloved is described as an ocean of beauty who, after bathing in the river, rises to leave. Bubbles form all around her. These are described as chashm-e safed-e habaab – the blinded “white eyes” of bubbles. chashm-e safed is an eye that has been washed white (the black pupil is thought to be the source of sight) … in the classical Biblical/qur’aanic story it is said that yaquub/Jacob cried so much upon hearing of the death of his favourite son yuusuf/Joseph that his pupils were washed out, his eyes became white and he went blind. aalam siyah hona – the world going dark is also an expression meaning losing sight, unable to see anything, seeing only darkness around you. Thus, the intensity of sorrow of the river is such that it cries so much that its eyes (bubbles) go white/blind. Some years later miir aniis would also wrote a similar thought …
misaal-e maahi-e be-aab maujeN taRpa kiiN
habaab phooT ke ro’e jo tum nahaa ke chal’e
20
aye shahsavaar1 gor2-e Ghariibaan3 meN aa nikal
apni bhi musht4-e Khaak5 ho teri rakaab6 meN
1.horse rider (the beloved) 2.grave 3.exiled, lonely, lovers (the poet) 4.handful 5.dust (the poet’s remains) 6.stirrup
The poet is dead and buried and turned to dust. Yet, he writes and calls upon the beloved (rider) to appear near his grave so that even his dust (musht-e Khaak) may touch the beloved’s stirrup. The metaphor merges humility and eternal devotion: even in death, the lover seeks nearness, but nearness to her feet.
21
duniya se rasm-o-raah1 mohabbat ki uTh2 ga’ii
sunt’e haiN ab to aashiq-o-ma’shuq3 Daab4 meN
1.traditions and customs 2.lifted i.e., disappeared 3.lover and beloved 4.leather/sword belt
This she’r presents an unusual picture; perhaps that is why aatish laments that the customs and traditions of love have disppeared from the world. Lovers and beloved alike are now “in Daab” i.e., they have donned leather sword belts meaning there is open conflict between the them instead of the traditional play, teasing and acceptance of the beloved’s cruelty.
22
vo mast1 huN Khumaar2 se jab dard-e sar hua
sandal lagaaya maiN n’e ragaR kar sharaab meN
1. intoxicated (spiritually or sensually) 2.hangover, after-intoxication
This she’r highlights the extreme, unconventional nature of the poet’s intoxication. Traditionally, if someone gets a headache (dard-e sar) from a hangover (Khumaar), they rub sandalwood paste (sandal) with water and apply it to their forehead for relief. However, the poet is so completely consumed by his love and love for wine that instead of water, he rubs the sandalwood into wine itself. He cures the ailment caused by wine with the wine itself, showing that he refuses to step out of his state of ecstasy.
23
ruKhsaar1 se raha dahn2-e yaar3 naapadiid4
matlab daqiiq5 tha na samaaya kitaab meN
1.face 2.mouth 3.beloved 4.invisible, hidden 5.subtle, delicate, profound
The standard of beauty in urdu poetic tradition is a thin mouth; thin to the point of disappearing; the same as that for the waist. Thus, the beloved is often described as ‘without’ a mouth or without a waist. Another often used expression is ‘kitaabi chechra‘ – the face is often presented as a book. This she’r presents a beautiful play on words. The first misra says that the beloved’s mouth is invisible on her face. The second misra makes a parallel point – the meaning is so subtle that it could not be contained in the words of the book – the meaning is invisible just like the mouth.
24
surKh1 o safed raNg kiya jism2-e yaar3 ka
mai’da4 Khamiir5 kar ke fiza6 ne shahaab7 meN
1.red 2.body 3.beloved 4.fine white sifted flour 5.knead, ferment 6.ambience, nature 7.deep red colour, meteor, stardust
The word shahaab/shihaab is used in a tricky way without specifiying which one it is; the difference being a zer or zabar rarely used in writing. One means red colour and the other means meteor/stardust. Both meanings can apply. Thus, fiza-ambience, nature has made the beloved’s body fair/white tinged with brilliant rosy red by kneading red colour/star dust in sifted white flour.
25
aa jaa’e shaam se to na jaan’e duN sub’h tak
us maah1-e chaardah2 ko shab3-e mahtaab4 meN
1.moon 2.fourteenth 3.night 4.full moon
This she’r is a lovely and witty play on words, taking credit for something that is going to happen anyway. When the full moon rises in the evening in the night sky it is bound to stay in the sky until dawn. Comparing the beloved to the full moon the poet claims that if she were to come tonight he would make her stay until dawn – just like the fourteenth moon in the sky.
26
biini1 o chashm2 o lab3 ruKh4-e raNgiin5-e yaar6 par
gul’haa7-e chiida8 haiN chaman-e inteKhaab9 meN
1.nose 2.eyes 3.lips 4.face 5.colourful, brilliant 6.beloved 7.plural of gul, roses 8.selected 9.selected, special
The poet likens each feature of the beloved’s face – eyes, nose, lips – to carefully picked flowers from a selected/special garden. The chaman-e inteKhaab symbolizes divine artistry: every element of creation is a deliberate act of beauty. On a higher plane, it may be taken to express how the universe is a manifestation of god’s perfect selection and design.
27
aatish1 sanam2 bhi karn’e lag’e be-niyaaziyaaN3
haiN laakh laakh shukr4 Khuda ki janaab5 meN
1.pen-name 2.idol, beloved 3.indifference 4.thanks 5.presence
On the surface, the she’r might appear contradictory, ironic or sarcastic, but there is a subtle play of words that makes it playfully meaningful. First note that the beloved has started-karn’e lag’e haiN– to do something i.e., she used to not do this. She has started to do … to put into practice … be-niyaaziyaaN. This implies that this is a deliberate act, therefore the be-niyaazi is feigned/pretend in order to torture the lover. That of course is the reason to offer “lakhs and lakhs of thanks” in the divine presence/court. One other witty aspect is that sanam-idol can be a representation of a god/deity. He is offering thanks to god for the indifference being shown by a god-equivalent deity.