Recitation
فِکر کا حاصِل کہیں جسے ۔ رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھ پوری
۱
ایک ایک یاد عمر کا حاصل کہیں جسے
وہ خَلوتِ خیال کہ محفل کہیں جسے
۲
تابندگیِ فکر کے اس آئینے میں دیکھ
اپنا جمال تیرا مقابل کہیں جسے
۳
ملتی ہو تو خرید، دو عالم کو بیچ کر
وہ کائناتِ دردِ نہاں دِل کہیں جسے
۴
ہم بحرِ عشق تیر تو جائیں مگر نہیں
ایسا کوئی کنارہ کہ ساحل کہیں جسے
۵
لہرا رہی ہیں گردش خوں میں حقیقتیں
وہ کون زندگی ہے کہ باطل کہیں جسے
۶
آتا ہے کون جانب گلزار دوش پر
وہ زُلف حلقہ حلقہ سلاسل کہیں جسے
۷
اکثر ملا ہے مجھ کو سرِ منزلِ حیات
تیرا خیال راہ میں حائل کہیں جسے
۸
پہنائے دو جہاں میں کہاں ہے تیرے سوا
اے دل کوئی مقام کہ منزل کہیں جسے
۹
ہیں اہلِ حُسن زیبِ کمر دشنۂ دودم
اتنا نہیں ہے کوئی کہ قاتل کہیں جسے
۱۰
لطفِ بیاں سکوت میں بھی نطق تو وہ ہے
تیری نگاہِ ناز کا قائل کہیں جسے
۱۱
اے سوزِ سازِ غم وہ زرِ داغِ دل لٹائیں
ہاں اس عیارِ ناز کے قابل کہیں جسے
۱۲
ہُوں بے نیازِ غم مگر اِس دل کو کیا کروں
سارے جہاں کے درد میں شامِل کہیں جسے
۱۳
واعظ نے علم کو بھی کھڑا سر کے بل کیا
ایسا پڑھا لکھا ہے کہ جاہل کہیں جسے
۱۴
دھوکا نہ دے تجھے مری درماندگی کہیں
میں وہ شکستہ پا ہوں کہ منزل کہیں جسے
۱۵
جذبِ نہاں کی رو سے توجہ تو بس وہ ہے
خالِ رُخِ صبیح پہ مائل کہیں جسے
۱۶
وہ اِک خیال کاش کہ لفظوں میں ڈھل سکے
سنجیدگی کی فِکر کا حاصل کہیں جسے
۱۷
تحسینِ اہلِ فن کے لیے کر رہا ہوں پیش
آساں حدیثِ عشق کہ مشکل کہیں جسے
۱۸
دیکھیں گے اس غزل میں دھڑکتا ہوا وہ دل
رعنائیِ خیال کا بسمل کہیں جسے
۱۹
میری نوا ہے ماتمِ یک شہرِ آرزو
یعنی فراقؔ اہل جہاں دل کہیں جسے
رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھپوری (۱۸۹۶۔۱۹۸۲) کے والد گورکھ پرشاد ایک زمیندار اور پیشے سے وکیل تھے، جو ‘عبرت’ تخلص کے ساتھ شاعری بھی کرتے تھے۔ فراقؔ نے گھر پر ہی اُردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اُن کی پہلی غزل ۲۰ سال کی عمر میں اُس وقت سامنے آئی جب وہ کالج کے طالب علم تھے، اور اُسے منشی پریم چند کے مشورے اور تاثر پر شائع کیا گیا۔ سینٹرل کالج الٰہ آباد سے بی۔اے مکمّل کرنے کے بعد وہ ملک کی سیاست میں عملی طور پر شامل ہو گئے۔ ۱۹۲۰ میں اُنہیں گرفتار کیا گیا اور انہوں نے ۱۸ ماہ جیل میں گزارے۔ کچھ عرصے تک اُنہوں نے کانگریس پارٹی کے لیے کام کیا، لیکن آزادی کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اِختیار کر لی۔ ۱۹۳۰ میں انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم۔اے کا امتحان پاس کیا اور الٰہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے لیکچرر مقرر ہو گئے۔ ان کی گھریلو زندگی ایک ناخوشگوار شادی اور بیٹے کی خودکشی کی وجہ سے کافی تلخ اور تکلیف دہ رہی۔ اُنہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا—۱۹۶۱میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، ۱۹۶۸ء میں سوویت نہرو ایوارڈ، پدم بھوشن، اور گیان پیٹھ ایوارڈ، ۱۹۸۱ میں غالب ایوارڈ۔ غالبؔ کی غزل، تجھ سا کہیں جسے، کی زمین میں ہونے کی وجہ سے اِسے غالبؔ نقشِ قدم سے منسلک کیا گیا ہے۔
۱
ایک ایک یاد عمر کا حاصل کہیں جسے
وہ خَلوتِ خیال کہ محفل کہیں جسے
شاعر (یا غم زدہ عاشق) زندگی بھر کی جمع شُدہ یادوں پر غور کرتا ہے اور اُنہیں زندگی کی اصل کمائی یا حاصل قرار دیتا ہے۔ تنہائی میں خیالات کا غلبہ (خلوتِ خیال) ان محفوظ یادوں سے اس قدر بھر جاتا ہے کہ وہ تنہائی بھی ایک بھیڑ بھری مجلس یا محفل کا روپ دھار لیتی ہے۔
۲
تابندگیِ فکر کے اس آئینے میں دیکھ
اپنا جمال تیرا مقابل کہیں جسے
یہ شعر خود شناسی کی ایک دعوت ہے۔ انسان سے خطاب کرتے ہوئے شاعر اُسے روشن فکری (تابندگیِ فکر) کے آئینے میں دیکھنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اس آئینے میں انسان کو اپنی اصل قدر و قیمت اور شان (جمال) اپنے سامنے (مقابل) نظر آئے گی۔
۳
ملتی ہو تو خرید، دو عالم کو بیچ کر
وہ کائناتِ دردِ نہاں دِل کہیں جسے
شاعر کا کہنا ہے کہ “دل” کی قیمت دونوں جہان ۔ مآدی اور روحانی ۔ سے زیادہ ہے۔ اگر یہ مل سکے تو سب کچھ بیچ کر بھی اسے خرید لو۔ یہ “دل” کیا ہے؟ چھپے ہوئے درد کی ایک پوری کائنات (کائناتِ دردِ نہاں)۔ شاعر ایک حساس اور درد مند دل کی بڑی قدر کرتا ہے، اور یہاں اشارہ ہے کہ یہ دل دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
۴
ہم بحرِ عشق تیر تو جائیں مگر نہیں
ایسا کوئی کنارہ کہ ساحل کہیں جسے
شاعر کہتا ہے کہ اِنسان عشق کے سمندر (بحرِ عشق) میں تیر تو سکتا ہے، لیکن یہ جدّوجہد کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ عشق ایک ایسا بے کنار سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں جہاں پہنچ کر انسان سُستا سکے۔ یہ اس بات کو مضبوط کرتا ہے کہ منزل سے زیادہ سفر خود اہم ہے۔ ایک ذرا گہرا نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ ساحل دراصل جمود اور بے عملی کی جگہ ہے۔ عشق کے سمندر میں ساحل پر بیٹھ کر تماشائی بننے کی اجازت نہیں؛ یہاں آپ کو کودنا/ڈوبنا پڑے گا، عمل کرنا پڑے گا اور مسلسل جدوجہد کرنی پڑے گی۔
۵
لہرا رہی ہیں گردشِ خوں میں حقیقتیں
وہ کون زندگی ہے کہ باطل کہیں جسے
زندگی کی تلخ اور سچّی حقیقتیں اِنسان کے خون کی گردش کے طوفان میں لہرا رہی ہیں۔ شاعر کا مطالبہ ہے کہ ہم زندگی کے سچے اور سخت مرحلوں کا بلا خوف سامنا کریں۔ وہموں، جھوٹے دلاسوں اور خود فریبیوں (باطل) میں پناہ لے لینا ایک بے مقصد زندگی ہے ۔ اور ایسی زندگی کا بھی کیا جینا؟
۶
آتا ہے کون جانبِ گلزار دوش پر
وہ زُلف حلقہ حلقہ سلاسل کہیں جسے
یہاں شعر کا انداز روایتی اور عاشقانہ ہے، جو غزل کی روایت کے مطابق بالکل جائز ہے کیونکہ ہر شعر اپنی جگہ ایک مُکمّل مضمون ہوتا ہے۔ روایتی استعاروں کا استعمال کرتے ہوئے شاعر اپنے محبوب کو بستان/گلزار کی طرف آتے ہوئے دکھاتا ہے، جس کے کندھوں پر زلفیں بکھری ہوئی ہیں اور اس کا ہر حلقہ عاشق کے لیے زنجیر کی کڑیوں (سلاسل) کی طرح ہے۔
۷
اکثر ملا ہے مجھ کو سرِ منزلِ حیات
تیرا خیال راہ میں حائل کہیں جسے
زندگی کے سفر کے بالکل آغاز (سرِ منزلِ حیات) پر ہی شاعر کو ایک بڑی رکاوٹ (حائل) کا سامنا ہوتا ہے: اور وہ ہے محبوب کی یاد یا اس کا خیال (تیرا خیال)۔ پچھلے شعر کی زنجیروں (سلاسل) کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے، محبوب کا خیال مسافر کے لئے اپنے مقصدِ حیات کی طرف بڑھنے سے پہلے ہی دنیاوی لگاؤ اور جذباتی اُلجھنوں میں جکڑے جانے کا اندیشہ ہے۔ یہاں محبوب کے خیال سے مراد تمام دنیاوی اور ذاتی تعلقات بھی لیا جا سکتا ہیں۔
۸
پہنائے دو جہاں میں کہاں ہے تیرے سوا
اے دل کوئی مقام کہ منزل کہیں جسے
اپنے ہی دل سے مخاطب ہو کر شاعر کہتا ہے کہ دونوں جہان کی اتنی بڑی وسعت (پہنائے دو جہاں) میں دل کے علاوہ کوئی سچّی جگہ یا منزل نہیں ہے۔ دل (یعنی عالمگیر محبت) ہی اس کائنات کا اصل مرکز اور نقطہ پرکار ہے۔
۹
ہیں اہلِ حُسن زیبِ کمر دشنۂ دودم
اتنا نہیں ہے کوئی کہ قاتل کہیں جسے
شاعر دیکھتا ہے کہ خوبصورت لوگ (اہلِ حسن) اپنی کمر پر سجاوٹ کے لیے دو دھاری خنجر (دشنۂ دو دم) باندھے پھرتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک دکھاوا یا ادا ہے؛ ان میں سے کسی کے اندر بھی اتنا دم یا سچا ارادہ نہیں کہ وہ واقعی کسی کا قتل کر سکے یا سچا “قاتل” کہلا سکے۔
۱۰
لطفِ بیاں سکوت میں بھی نطق تو وہ ہے
تیری نگاہِ ناز کا قائل کہیں جسے
شاعر سچّی گفتگو یا بیاں (نطق) اُسے مانتا ہے جو مکمّل خاموشی (سکوت) میں بھی اپنا اثر دکھائے۔ اصل بات چیت تو محبوب کی نگاہِ ناز کی ہے، جو بغیر کچھ کہے بھی عاشق کو اپنا قائل کر لیتی ہے اور دل میں اُتر جاتی ہے۔
۱۱
اے سوزِ سازِ غم وہ زرِ داغِ دل لٹائیں
ہاں اس عیارِ ناز کے قابل کہیں جسے
غم کے نغمے کی تڑپ (سوزِ سازِ غم) سے خطاب کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ دل کے زخموں کی دولت (زرِ داغِ دل) کو لٹا دینا چاہیے۔ لیکن یہ جذباتی سرمایا صرف اور صرف اس خاص ہستی—یعنی محبوب—پر نچھاور ہونا چاہیے جو سچّے ناز و ادا کے معیار (عیارِ ناز) پر پورا اترتی ہو۔
۱۲
ہُوں بے نیازِ غم مگر اِس دل کو کیا کروں
سارے جہاں کے درد میں شامِل کہیں جسے
شاعر ذاتی غم و الم سے خود کو الگ تھلگ (بے نیاز) محسوس کرتا ہے، لیکن وہ اپنے دل کی فطرت کو نہیں بدل سکتا۔ یہ دل خود بخود پوری دنیا کے انسانوں کے دکھ درد (سارے جہاں کے درد) کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے اور ان کا شریک بن جاتا ہے۔ جیسا کہ امیر مینائی نے بھی کہا تھا
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
۱۳
واعظ نے علم کو بھی کھڑا سر کے بل کیا
ایسا پڑھا لکھا ہے کہ جاہل کہیں جسے
یہ ظاہری اور سخت گیر واعظ پر ایک طنز ہے۔ اپنی تمام تر پڑھائی لکھائی کے باوجود، واعظ نے اپنے تنگ نظر اور غیر فطری افکار سے علم کا حلیہ بگاڑ دیا ہے (سر کے بل کھڑا کر دیا ہے)، جس کی وجہ سے وہ پڑھا لکھا ہونے کے باوجود ایک جاہل کے برابر ہی ہے۔
۱۴
دھوکا نہ دے تجھے مری درماندگی کہیں
میں وہ شکستہ پا ہوں کہ منزل کہیں جسے
شاعر خبردار کرتا ہے کہ اس کی تھکن اور بے بسی (درماندگی) کو سفر کی ناکامی نہ سمجھا جائے۔ اس کی یہ ٹوٹی ہوئی حالت (شکستہ پا) سفر کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں، بلکہ اس راستے میں خود کو پوری طرح مِٹا دینے کا لازمی نتیجہ ہے۔ چونکہ باہر کوئی ٹھہری ہوئی منزل نہیں ہے، اس لیے سچی تلاش کی راہ میں حاصل ہونے والی یہ تھکن اور حالت ہی اصل منزل بن جاتی ہے۔
۱۵
جذبِ نہاں کی رو سے توجہ تو بس وہ ہے
خالِ رُخِ صبیح پہ مائل کہیں جسے
ظاہری طور پر عاشقانہ لگنے کے باوجود، یہ شعر سچّی توجّہ اور لگن کی تعریف کرتا ہے۔ روشن چہرے پر تِل (خالِ رخِ صبیح) کو ایک مرکزی نقطے کی علامت بناتے ہوئے، شاعر کہتا ہے کہ سچّی توجّہ زبردستی یا فرضی ذِمّہ داری سے پیدا نہیں کی جا سکتی۔ اصل توجّہ تو وہ ہے جو اندرونی کشِش اور سچّے جذبے (جذبِ نہاں) کی رَو میں خود بخود کسی ایک نقطے پر قائم ہو جائے۔
۱۶
وہ اِک خیال کاش کہ لفظوں میں ڈھل سکے
سنجیدگی کی فِکر کا حاصل کہیں جسے
شاعر اس بات پر افسوس اور الجھن کا اظہار کرتا ہے کہ کسی گہرے اور سنجیدہ فکر (سنجیدگی کی فکر) کے نچوڑ یا حاصل کو لفظوں کے روپ میں ڈھالنا کتنا مشکل ہے۔ وہ خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ خاص خیال لفظوں میں آ سکے، لیکن زبان کی محدودیت اور سطحی پن کے باعث اتنی گہری فکر کو بیان کرنا بے حد دشوار ہے۔ جیسا کہ غالب نے بھی اپنے فارسی شعر میں خیالات کو الفاظ میں ڈھالنے کی مشقت کا ذکر کیا ہے۔
غالبؔ نہ بود شیوۂ من قافیہ بندی
ظلمیست کہ بر کلک و ورق میکُنم اِمشب
۱۷
تحسینِ اہلِ فن کے لیے کر رہا ہوں پیش
آساں حدیثِ عشق کہ مشکل کہیں جسے
عشق کا بیان اور اس کے مسائل (حدیثِ عشق) اپنی جگہ بے حد گہرے اور مشکل ہیں۔ لیکن شاعر اس مشکل بات کو بہت سادہ اور آسان زبان (آساں حدیث) میں ڈھال کر فن کے ماہرین (اہلِ فن) کے سامنے پیش کر رہا ہے، تاکہ وہ اُس کی اس مہارت کی داد اور تحسین دے سکیں۔
۱۸
دیکھیں گے اس غزل میں دھڑکتا ہوا وہ دل
رعنائیِ خیال کا بسمل کہیں جسے
شاعر کا دعویٰ ہے کہ قاری کو اِس غزل میں ایک دھڑکتا ہوا دل ملے گا۔ یہ دل شاعرانہ سوچ اور خیال کی بے پناہ خوبصورتی (رعنائیِ خیال) کا بِسمل (زخمی یا قربان ہوا) ہے۔ یہ وہی خیال ہے جسے پچھلے شعر میں لفظوں میں ڈھالنا مشکل ہو رہا تھا، اور یہ غزل اسی گہرے خیال کے اثر سے زخمی دل کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔
۱۹
میری نوا ہے ماتمِ یک شہرِ آرزو
یعنی فراقؔ اہل جہان دل کہیں جسے
مقطع میں فراقؔ اس بات کو دہراتے ہیں کہ الفاظ اِنسان کے اندرونی جذبات کو پوری طرح بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کی شاعری یا آواز (نوا) دراصل اِنسانی خواہشات اور آرزوؤں کے دیار کا ایک ماتم ہے۔ جسے باقی دنیا سادگی سے “دل” کہہ دیتی ہے، شاعر کے نزدیک وہ انسان کی انہیں تڑپتی ہوئی آرزوؤں اور گہرے جذبات کا نام ہے۔
फ़िक्र का हासिल कहें जिसे – रघुपति सहाय फ़िराक़ गोरखपुरी
१
एक एक याद उम्र का हासिल कहें जिसे
वो ख़लवत-ए ख़याल के महफ़िल कहें जिसे
२
ताबिंदगी-ए फ़िक्र के इस आईने में देख
अपना जमाल तेरा मुक़ाबिल कहें जिसे
३
मिलती हो तो ख़रीद, दो आलम को बीच कर
वो का’एनात-ए दर्द-ए नेहाँ दिल कहें जिसे
४
हम बहर-ए इश्क़ तैर तो जाएँ मगर नहीं
ऐसा कोई किनारा के साहिल कहें जिसे
५
लहरा रही हैं गर्दिश-ए ख़ूँ में हक़ीक़तें
वो कौन ज़िंदगी है के बातिल कहें जिसे
६
आता है कौन जानिब-ए गुलज़ार दोश पर
वो ज़ुलफ़ हल्क़ा हल्क़ा सलासिल कहें जिसे
७
अक्सर मिला है मुझ को सर-ए मंज़िल-ए हयात
तेरा ख़याल राह में हा’एल कहें जिसे
८
पहना-ए दो जहाँ में कहाँ है तेरे सिवा
अए दिल कोई मक़ाम के मंज़िल कहें जिसे
९
हैं अहल-ए हुस्न ज़ेब-ए कमर दश्ना-ए दो-दम
इतना नहीं है कोई के क़ातिल कहें जिसे
१०
लुत्फ़-ए बयाँ सुकूत में भी नुत्क़ तो वो है
तेरी निगाह-ए नाज़ का क़ा’एल कहें जिसे
११
अए सोज़-ए साज़-ए ग़म वो ज़र-ए दाग़-ए दिल लुटाएँ
हाँ इस अयार-ए नाज़ के क़ाबिल कहें जिसे
१२
हूँ बे-नियाज़-ए ग़म मगर इस दिल को क्या करूं
सारे जहाँ के दर्द में शामिल कहें जिसे
१३
वा’एज़ ने इल्म को भी खड़ा सर के बल किया
ऐसा पढ़ा लिखा है के जाहिल कहें जिसे
१४
धोका न दे तुझे मेरी दरमांदगी कहीं
मैं वो शिकस्ता-पा हूँ के मंज़िल कहें जिसे
१५
जज़्ब-ए नेहाँ की रौ से तवज्जोह तो बस वो है
ख़ाल-ए रुख़-ए सबीह पे मा’एल कहें जिसे
१६
वो एक ख़याल काश के लफ़्ज़ों में ढल सके
संजीदगी की फ़िक्र का हासिल कहें जिसे
१७
तहसीन-ए अहल-ए फ़न के लिये कर रहा हूँ पेश
आसाँ हदीस-ए इश्क़ के मुश्किल कहें जिसे
१८
देखेंगे इस ग़ज़ल में धड़कता हुआ वो दिल
रा’नाई-ए ख़याल का बिस्मिल कहें जिसे
१९
मेरी नवा है मातम-ए यक शहर-ए आर्ज़ू
यानी फ़िराक़ अहल-ए जहाँ दिल कहें जिसे
रघुपति सहाए फ़िराक़ गोरखपुरी (१८९६-१९८२) के पिता गोरख प्रसाद एक ज़मींदार और पेशे से वकील थे, जो ‘इब्रत’ तख़ल्लुस से शा’एरी भी करते थे। फ़िराक़ ने घर पर ही उर्दू और फ़ारसी की पढ़ाई की। उन की पहली ग़ज़ल २० साल की उम्र में तब रची गई जब वो कॉलेज के छात्र थे, और मुंशी प्रेमचंद के कहने पर प्रकाशित हुई। सेंट्रल कॉलेज इलाहाबाद से बी.ए. करने के बाद वो देश की राजनीति में सक्रिय हो गए। १९२० में उन्हें गिरफ़्तार किया गया और उन्होंने १८ महीने जेल में बिताए। कुछ समय तक उन्होंने कांग्रेस पार्टी के लिये काम किया, लेकिन आज़ादी के बाद राजनीति छोड़ दी। १९३० में उन्होंने आगरा यूनिवर्सिटी से अंग्रेज़ी साहित्य में एम.ए. की परीक्षा पास की और इलाहाबाद यूनिवर्सिटी में अंग्रेज़ी के लेक्चरर बन गए। उन का घरेलू जीवन एक दुखद शादी और बेटे की आत्महत्या के कारण काफ़ी कष्टदायक रहा। उन्हें कई पुरस्कारों से सम्मानित किया गया—१९६१ में साहित्य अकादमी; १९६८ में सोवियत नेहरू पुरस्कार, पद्म भूषण और ज्ञानपीठ पुरस्कार; तथा १९८१ में ग़ालिब पुरस्कार। ग़ालिब की ग़ज़ल तुझ सा कहें जिसे की ज़मीन में होने के कारण इसे ग़ालिब नक़्श-ए क़दम से जोढा गया है।
१
एक एक याद उम्र का हासिल कहें जिसे
वो ख़लवत-ए ख़याल के महफ़िल कहें जिसे
शा’एर (या आशिक़) अपनी पूरी ज़िंदगी में जमा हुई यादों पर विचार करता है और उन्हें अपनी पूरी ज़िंदगी की असली कमाई या हासिल बताता है। तन्हाई में इन विचारों (ख़लवत-ए ख़याल) इन सँजोई हुई यादों से इस क़दर भर जाती है के अकेले-पन में सोच भी लोगों से भरी हुई किसी महफ़िल की तरह काम करने लगती है।
२
ताबिंदगी-ए फ़िक्र के इस आईने में देख
अपना जमाल तेरा मुक़ाबिल कहें जिसे
ये शे’र आत्म-साक्षात्कार (self-realization) का एक आमंत्रण (invitation) है। अपने इंसान साथियों को संबोधित करते हुए शा’एर उन्हें रौशन सोच/समझ (ताबिंदगी-ए फ़िक्र) के आईने में देखने के लिये कहता है। उस आईने में इंसान की असली क़द्र, मूल्य और शान (जमाल) उनके अपने सामने (मुक़ाबिल) साफ़ नज़र आएगी।
३
मिलती हो तो ख़रीद, दो आलम को बीच कर
वो का’एनात-ए दर्द-ए नेहाँ दिल कहें जिसे
शा’एर का मानना है के “ये चीज़” दोनों दुनिया—भौतिक और आध्यात्मिक—से ज़्यादा क़ीमती है। अगर ये कहीं मिल सके, तो दोनों दुनिया बेच कर भी इसे ख़रीद लो। ये “चीज़” क्या है? छुपे हुए दर्द की का’एनात (का’एनात-ए दर्द-ए नेहाँ), जिसे दिल कहते हैं। शा’एर एक संवेदनशील (sensitive) और महसूस करने वाले दिल की बहुत बड़ी क़द्र करता है, और यहाँ इशारा है के ये दूसरों के दर्द को गहराई से महसूस करता है।
४
हम बहर-ए इश्क़ तैर तो जाएँ मगर नहीं
ऐसा कोई किनारा के साहिल कहें जिसे
शा’एर कहता है के इंसान प्यार के समंदर (बहर-ए इश्क़) में तैर तो सकता है, लेकिन ये कोशिश कभी ख़त्म न होने वाली है। इश्क़ एक ऐसा असीम फैलाव है जिस का कोई किनारा या साहिल नहीं जहाँ पहुँच कर इंसान रुक सके। ये इस बात को मज़्बूत करता है के मंज़िल से ज़्यादा सफ़र ख़ुद अहम है। एक थोड़ा कड़ा दृष्टिकोण (perspective) ये भी है के साहिल निष्क्रियता या सुस्ती की जगह है। इश्क़ के समंदर में ऐसा कुछ नहीं है—आप को कूदना होगा, डूबना होगा और लगातार संघर्ष करना होगा। आप साहिल पर बैठ कर सिर्फ़ तमाशा देखने वाले नहीं बन सकते।
५
लहरा रही हैं गर्दिश-ए ख़ूँ में हक़ीक़तें
वो कौन ज़िंदगी है के बातिल कहें जिसे
ज़िंदगी की सच्ची और कठोर सच्चाइयाँ (हक़ीक़तें) इंसान के ख़ून के तूफ़ान और बहाव (गर्दिश-ए ख़ून) के अंदर लहरा रही हैं। शा’एर मांग करता है के हम ज़िंदगी के बिल्कुल सच्चे और कड़े अनुभवों का सामना करें। आरामदेह वहमों और ख़ुद-फ़रेबी (बातिल) में छुप जाना एक बनावटी और झूठी ज़िंदगी जीना है—और ऐसी ज़िंदगी का भी क्या जीना?
६
आता है कौन जानिब-ए गुलज़ार दोश पर
वो ज़ुलफ़ हल्क़ा हल्क़ा सलासिल कहें जिसे
यहाँ रंग-रूप बिल्कुल पारंपरिक और रोमानी अंदाज़ की तरफ़ बदलता है। ग़ज़ल में इस की पूरी इजाज़त है क्यूंके हर शे’र अपने आप में एक अलग और पूरा विचार होता है। पारंपरिक दृश्यों का इस्तेमाल करते हुए शा’एर किसी (महबूब) को बाग़ की तरफ़ आते हुए देखता है; उसके कंधों पर ज़ुल्फ़ें बिखरी हैं, जिन की हर कड़ी (हल्क़ा-हल्क़ा) आशिक़ को बाँधने वाली ज़ंजीरों (सलासिल) की तरह लगती है।
७
अक्सर मिला है मुझ को सर-ए मंज़िल-ए हयात
तेरा ख़याल राह में हा’एल कहें जिसे
ज़िंदगी के सफ़र की बिल्कुल शुरुआत या दहलीज़ पर ही (सर-ए मंज़िल-ए हयात), शा’एर को रास्ते में एक बहुत बड़ी रुकावट (हा’एल) मिलती है: महबूब का वो ख़याल या छवि जो दिमाग़ से नहीं निकलती (तेरा ख़याल)। पिछले शे’र की ज़ंजीरों (सलासिल) से जोड़ते हुए, महबूब की याद इंसान को उस के जीवन का असली काम शुरू होने से पहले ही दुनियावी लगाव और भावनात्मक उलझनों में जकड़ने का ख़तरा पैदा करती है। यहाँ महबूब के ख़याल का व्यापक अर्थ सभी दुनियावी और स्वार्थी जुड़ावों से है।
८
पहना-ए दो जहाँ में कहाँ है तेरे सिवा
अए दिल कोई मक़ाम के मंज़िल कहें जिसे
अपने ही दिल से बात करते हुए शा’एर कहता है के दोनों दुनिया के इतने बड़े फैलाव (पहना-ए दो-जहाँ) में, दिल के अलावा कोई असली जगह या मंज़िल नहीं है। ये दिल (यानी इंसानियत और सर्वव्यापी प्रेम) ही इस पूरी हस्ती का सब से बड़ा और अंतिम केंद्र है।
९
हैं अहल-ए हुस्न ज़ेब-ए कमर दश्ना-ए दो-दम
इतना नहीं है कोई के क़ातिल कहें जिसे
शा’एर देखता है के सुंदर लोग (अहल-ए हुस्न) सिर्फ़ दिखावे के लिये अपनी कमर पर दोधारी कटार (दश्ना-ए दो-दम) सजाए घूमते हैं। लेकिन ये सिर्फ़ एक बनावटी अदा है; उन में से किसी के अंदर भी इतना इरादा या क्षमता नहीं है के वो सचमुच किसी का क़त्ल कर सकें या असली “क़ातिल” कहला सकें।
१०
लुत्फ़-ए बयाँ सुकूत में भी नुत्क़ तो वो है
तेरी निगाह-ए नाज़ का क़ा’यल कहें जिसे
शा’एर असली बात-चीत या आवाज़ (नुत्क़) उसे मानता है जो बिल्कुल ख़ामोशी (सुकूत) में भी अपना कहना कह दे। असली अभिव्यक्ति (expression) तो महबूब की उस नज़ाकत भरी नज़र (निगाह-ए नाज़) की है, जो बिना एक भी शब्द बोले आशिक़ को अपना क़ा’एल कर लेती है और हिला कर रख देती है।
११
अए सोज़-ए साज़-ए ग़म वो ज़र-ए दाग़-ए दिल लुटाएँ
हाँ इस अयार-ए नाज़ के क़ाबिल कहें जिसे
ग़म के संगीत की तड़प (सोज़-ए साज़-ए ग़म) को पुकारते हुए शा’एर कहता है के दिल के ज़ख़्मों की जमा-पूंजी (ज़र-ए दाग़-ए दिल) को लुटा देना चाहिए। ये भावनात्मक दौलत पूरी तरह से और सिर्फ़ उसी एक को दी जानी चाहिए जो असली सुंदरता और नज़ाकत के उच्च मानदंड (‘अयार-ए नाज़) पर खरी उतरती हो—यानी वही ख़ास महबूब।
१२
हूँ बे-नियाज़-ए ग़म मगर इस दिल को क्या करूं
सारे जहाँ के दर्द में शामिल कहें जिसे
शा’एर ख़ुद अपने व्यक्तिगत दुखों से अलग-थलग और बेपरवाह महसूस करता है (बे-नियाज़-ए ग़म), फिर भी वो अपने दिल के स्वभाव को नहीं बदल सकता। ये दिल अपने आप पूरी दुनिया के इंसानों के सामूहिक दुख और पीड़ा (सारे जहाँ के दर्द) को अपने अंदर सोख लेता है और उस में शरीक हो जाता है। जैसा के अमीर मीनाई ने कहा था:
ख़ंजर चले किसी पे तड़पते हैं हम अमीर
सारे जहाँ का दर्द हमारे जिगर में है
१३
वा’एज़ ने इल्म को भी खड़ा सर के बल किया
ऐसा पढ़ा लिखा है के जाहिल कहें जिसे
रूढ़िवादी धर्मोपदेशक (वा’एज़) पर एक सीधा हमला। अपनी तमाम किताबी पढ़ाई और अक्षरों के ज्ञान के बावजूद, वा’एज़ अपनी संकीर्ण (narrow) और अप्राकृतिक (unnatural) व्याख्याओं से ज्ञान का पूरा रूप ही बिगाड़ देता है (उसे सर के बल खड़ा कर देता है), जिस से वो व्यवहार में किसी अनपढ़-अज्ञानी (जाहिल) के बराबर ही हो जाता है।
१४
धोका न दे तुझे मेरी दरमांदगी कहीं
मैं वो शिकस्ता-पा हूँ के मंज़िल कहें जिसे
शा’एर/खोजी चेतावनी देता है के उस की शारीरिक थकावट और लाचार हालत (दरमांदगी) को मंज़िल तक न पहुँच पाने की नाकामी समझने की भूल न की जाए। उस की ये टूटी हुई हालत (शिकस्ता-पा) रास्ते में आया कोई टूटना या रुकना नहीं है, बल्के इस खोज के रास्ते में पूरी तरह समर्पित हो जाने का अनिवार्य (essential) और अंतिम नतीना है। चूँके बाहर कोई ठहरी हुई मंज़िल नहीं है, इस लिये इस निरंतर खोज की प्रक्रिया से मिली ये थकावट ही असली मंज़िल बन जाती है—और खोजने वाले की ये स्थिति ही मंज़िल को दर्शाती है।
१५
जज़्ब-ए नेहाँ की रौ से तवज्जोह तो बस वो है
ख़ाल-ए रुख़-ए सबीह पे मा’एल कहें जिसे
ऊपरी तौर पर रोमानी लगने से अलग, ये शे’र सच्चे ध्यान और एकाग्रता (तवज्जोह) की परिभाषा देता है। एक रौशन चेहरे पर काले तिल (ख़ाल-ए रुख़-ए सबीह) को एक अकेले, गहरे केंद्र के रूप में इस्तेमाल करते हुए, शा’एर कहता है के असली ध्यान ज़बरदस्ती या बाहरी कर्तव्य से पैदा नहीं किया जा सकता। इस के बजाए, सच्चा ध्यान (बस वो है) एक क़ुद्रती और अंदरूनी घटना है—जो केवल छुपी हुई अंदरूनी खिंचाव और तड़प (जज़्ब-ए नेहाँ) की लहर से पैदा होती है।
१६
वो एक ख़याल काश के लफ़्ज़ों में ढल सके
संजीदगी की फ़िक्र का हासिल कहें जिसे
शा’एर अपनी ये तड़प और लाचारी ज़ाहिर करता है के काश वो ख़ास विचार (वो एक ख़याल)—जो गहरी, गंभीर सोच (संजीदगी की फ़िक्र) का निचोड़ है—शब्दों में साफ़-साफ़ ढाला जा सके। शा’एर अपनी इस कुंठा (frustration) को ज़ाहिर कर रहा है के वो या कोई भी इंसान इतने गहरे विचारों को शब्दों के सतहीपन में पूरी तरह नहीं ढाल सकता। ग़ालिब ने विचारों को शब्दों में ढालने की इसी कठिनाई को इस तरह कहा था:
ग़ालिब नबुवद शेवा-ए मन क़ाफ़िया-बंदी
ज़ुल्मीस्त के बर किल्क ओ वरक़ मीकुनम इमशब
१७
तहसीन-ए अहल-ए फ़न के लिये कर रहा हूँ पेश
आसाँ हदीस-ए इश्क़ के मुश्किल कहें जिसे
सच्चे प्यार और मानवीय भावनाओं की बात (हदीस-ए इश्क़) स्वभाव से ही बहुत गहरी, जटिल (complex) और समझने में कठिन (मुश्किल) होती है। मैं इस जटिल बात को एक आसान और सीधी कहानी (आसाँ हदीस) के रूप में पेश कर रहा हूँ, ताके कला के पारखी और उस्ताद लोग (अहल-ए फ़न) इसे समझ सकें और इस की दाद ओ प्रशंसा (तहसीन) दे सकें।
१८
देखेंगे इस ग़ज़ल में धड़कता हुआ वो दिल
रा’नाई-ए ख़याल का बिस्मिल कहें जिसे
शा’एर का दावा है के इस ग़ज़ल में पाठकों को एक धड़कता हुआ दिल मिलेगा। ये दिल शा’एरी की कल्पना की विशाल सुंदरता और गरिमा (रा’नाई-ए ख़याल) से ज़ख़्मी या क़ुर्बान हुआ (बिस्मिल) शिकार है। ये वही विचार/कल्पना है जिसे पिछले शे’र में शब्दों में ढालना बेहद कठिन लग रहा था। ये ग़ज़ल उस विचार की विशालता का एक ज़ख़्मी और जीवित रूप है।
१९
मेरी नवा है मातम-ए यक शहर-ए आर्ज़ू
यानी फ़िराक़ अहल-ए जहाँ दिल कहें जिसे
अंतिम शे’र में, फ़िराक़ अपनी अंदरूनी गहरी भावनाओं को ज़ाहिर करने में शब्दों के अधूरेपन को बयान करना जारी रखते हैं। उन की शा’एराना आवाज़ (नवा)—जो वास्तव में उन की ग़ज़ल है—इंसानी ख़्वाहिशों और आर्ज़ूओं की दुनिया का एक मातम (शोक) है। बाक़ी दुनिया जिसे सहजता से “दिल” कह देती है, शा’एर के लिये वही दिल इस इच्छा का रूप है—जो शा’एराना सोच और इंसानी इच्छाओं की भव्यता से घाएल हुआ बिस्मिल है।
fikr kaa haasil kah’eN jis’e – raghupati sahaa’e firaaq gorakhpuurii
1
aek aek yaad ‘umr kaa haasil kah’eN jis’e
vo Khalvat-e Khayaal keh mahfil kah’eN jis’e
2
taabindagii-e fikr ke iss aa’iine meN dekh
apnaa jamaal teraa muqaabil kah’eN jis’e
3
miltii ho to Khariid, do ‘aalam ko b’ech kar
vo kaa’enaat-e dard-e nihaaN dil kah’eN jis’e
4
ham bahr-e ‘ishq ta’er to jaa’eN magar nahiiN
aisaa ko’ii kinaara keh saahil kah’eN jis’e
5
lahraa rahii haiN gardish-e KhuuN meN haqiiqateN
vo kaun zindagi hai keh baatil kah’eN jis’e
6
aataa hai kaun jaanib-e gulzaar dosh par
vo zulf halqa-halqa salaasil kah’eN jis’e
7
aksar milaa hai mujh ko sar-e manzil-e hayaat
teraa Khayaal raah meN haa’el kah’eN jis’e
8
pahnaa-e do jahaaN meN kahaaN hai ter’e sivaa
aye dil ko’ii maqaam keh manzil kah’eN jis’e
9
haiN ahl-e husn zeb-e kamar dashna-e do-dam
itnaa nahiiN hai ko’ii keh qaatil kah’eN jis’e
10
lutf-e bayaaN sukuut meN bhii nutq t’o vo hai
terii nigaah-e naaz kaa qaa’el kah’eN jis’e
11
aye soz-e saaz-e Gham vo zar-e daaGh-e dil luTaa’eN
haaN iss ‘eyaar-e naaz ke qaabil kah’eN jis’e
12
huuN be-niyaaz-e Gham magar iss dil ko kyaa karuuN
saar’e jahaaN ke dard meN shaamil kah’eN jis’e
13
vaa’ez ne ‘ilm ko bhii khaRaa sar ke bal kiyaa
aisaa paRhaa likhaa hai keh jaahil kah’eN jis’e
14
dhoka na de tujh’e merii darmaandagii kahiiN
maiN vo shikasta-paa huuN keh manzil kah’eN jis’e
15
jazb-e nehaaN kii rau se tavajjoh to bas vo hai
Khaal-e ruKh-e sabiih pe maa’el kah’eN jis’e
16
vo ek Khayaal kaash keh lafzoN meN Dhal sak’e
sanjiidagii kii fikr kaa haasil kah’eN jis’e
17
tahsiin-e ahl-e fan ke li’e kar rahaa huuN pesh
aasaaN hadiis-e ‘ishq keh mushkil kah’eN jis’e
18
dekheNge iss Ghazal meN dhaRaktaa huaa vo dil
raa’naa’ii-e Khayaal kaa bismil kah’eN jis’e
19
merii navaa hai maatam-e yak shahr-e aarzuu
yaa’nii firaaq ahl-e jahaaN dil kah’eN jis’e
raghupati sahaa’e firaaq gorakhpuri (1896-1982). His father gorakh prasaad was a landlord and practiced law and was a poet using the taKhallus ibrat. firaaq studied urdu and faarsi at home. His first Ghazal was composed at the age of 20, when he was college student, and published at the urging of munshi premchand. After his BA from Central College Allahabad he became involved in the country’s politics. He was arrested in 1920 and spent 18 months in prison. He worked for some time for the Congress party but after independence, discontinued politics. In 1930, he passed the MA examination in English Literature from Agra University and became a lecturer in English in Allahabad University. His domestic life was troubled with a bad marriage and suicide of his son. He received multiple awards – 1961, sahitya akademi; 1968, Soviet Nehru, padma bhushan, gyaan piiTh; 1981 Ghalib award. This is in the zamiin of Ghalib‘s tujh saa kah’eN jis’e and is linked to Ghalib naqsh-e qadam.
1
aek aek yaad ‘umr kaa haasil kah’eN jis’e
vo Khalvat-e Khayaal keh mahfil kah’eN jis’e
The poet/forlorn lover reflects on the accumulation of memories over a lifetime, describing them as the true earnings or value haasil of life ‘umr. Solitary contemplation (Khalvat-e Khayaal) becomes so crowded with these preserved memories that it functions like a crowded gathering (mahfil).
2
taabindagii-e fikr ke iss aa’iine meN dekh
apnaa jamaal teraa muqaabil kah’eN jis’e
This sh’er is an invitation to self-realization. Addressing fellow humans, the poet invites them to look into the mirror of enlightened reason (taabindagii-e fikr). In that mirror, their true worth/glory (jamaal) will appear will appear before (muqaabil) you.
3
miltii ho to Khariid, do ‘aalam ko b’ech kar
vo kaa’enaat-e dard-e nihaaN dil kah’eN jis’e
The poet suggests that “it” is more valuable than both worlds … the material and the spiritual. If you can find it, buy it. What is “it”. The universe of hidden pain-kaa’enaat-e dard-e nehaaN, which is called the heart. The poet places great value on a feeling/sensitive heart. It is implied that it is sensitive to the pain of others.
4
ham bahr-e ‘ishq ta’er to jaa’eN magar nahiiN
aisaa ko’ii kinaara keh saahil kah’eN jis’e
The poet observes that one could swim through the ocean of love (bahr-e ‘ishq), but the effort is bound to be endless. Love is an infinite expanse that possesses no boundary, edge, or landing shore (saahil) at which a person can arrive. This reinforces the thought that the journey is more important than the destination. A slightly more aggressive interpretation suggests that the shore is a place of inactivity/passivity. There is no such thing available in the ocean of love bahr-e ‘ishq, you have to dive in, get involved, struggle continuously. You are not allowed to be a spectator from the shore.
5
lahraa rahii haiN gardish-e KhuuN meN haqiiqateN
vo kaun zindagi hai keh baatil kah’eN jis’e
Realities (haqiiqateN) are tossing and surging lahraa rahii haiN within the turbulent storm of human blood (gardish-e KhuuN). The poet demands that we confront the raw, unvarnished challenges of lived experience. To retreat into comfortable illusions and self-deception (baatil) is to live an unauthentic life—and what kind of life is that?
6
aataa hai kaun jaanib-e gulzaar dosh par
vo zulf halqa-halqa salaasil kah’eN jis’e
This appears to be a complete change in tone towards the romantic/conventional. This is allowed in a Ghazal since each sh’er stands on its own. Using traditional visual imagery, the speaker describes someone (the beloved) approaching the garden; resting on her shoulder are locks of hair zulf with each curl halqa-halqa appearing like links of a chain or fetters (salaasil) intended for the lover.
7
aksar milaa hai mujh ko sar-e manzil-e hayaat
teraa Khayaal raah meN haa’el kah’eN jis’e
At the very onset or threshold of life’s journey (sar-e manzil-e hayaat), the poet encounters an obstacle (haa’el) blocking the path: the haunting obsession or image of the beloved (teraa Khayaal). Linking back to the chains (salaasil) of the previous couplet, the thought of the beloved threatens to trap the traveler in worldly attachments and emotional entanglement before his life’s work can even begin. Here the thought of the beloved should be generalized to mean all worldly/selfish attachments.
8
pahnaa-e do jahaaN meN kahaaN hai ter’e sivaa
aye dil ko’ii maqaam keh manzil kah’eN jis’e
Addressing his own heart, the poet states that across the vast expanse of both worlds (pahnaa-e do jahaaN), there is no true location or destination (manzil) except the heart itself. The heart (universal love) remains the ultimate reference point in existence.
9
haiN ahl-e husn zeb-e kamar dashna-e do-dam
itnaa nahiiN hai ko’ii keh qaatil kah’eN jis’e
The poet observes that the beautiful (ahl-e husn) carry two-edged daggers (dashna-e do-dam) at their waists as ornaments. However, this is mere posture; none of them has the genuine intent (itna nahiiN hai ko’ii) or capacity to act as a true killer (qaatil).
10
lutf-e bayaaN sukuut meN bhii nutq t’o vo hai
terii nigaah-e naaz kaa qaa’el kah’eN jis’e
The speaker defines true eloquence (nutq) as communication that occurs even in absolute silence (sukuut). Real expression belongs to the beloved’s coquettish glance (nigaah-e naaz), which convinces (qaa’el) and moves the lover without spoken words.
11
aye soz-e saaz-e Gham vo zar-e daaGh-e dil luTaa’eN
haaN iss ‘eyaar-e naaz ke qaabil kah’eN jis’e
Addressing the passion of sorrow’s music (soz-e saaz-e Gham), the speaker calls for spending/offering the wealth of the heart’s wounds (zar-e daaGh-e dil). This emotional currency should be given freely to the one who meets the high standard or criteria (‘eyaar) of true elegance naaz i.e., the beloved.
12
huuN be-niyaaz-e Gham magar iss dil ko kyaa karuuN
saar’e jahaaN ke dard meN shaamil kah’eN jis’e
The speaker personally feels detached from/de-sensitized to persal grief (be-niyaaz-e Gham), yet cannot alter the nature of his heart. The heart instinctively absorbs and shares in the collective suffering of the entire world (saar’e jahaaN ke dard). Said amiir minaaii …
Khanjar chal’e kisi pe taRapt’e haiN ham amiir
saar’e jahaaN ka dard hamaar’e jigar meN hai
13
vaa’ez ne ‘ilm ko bhii khaRaa sar ke bal kiyaa
aisaa paRhaa likhaa hai keh jaahil kah’eN jis’e
A direct critique of the orthodox preacher (vaa’ez). Despite his formal literacy and schooling, the preacher twists knowledge upside down through rigid, unnatural interpretations, making him functionally equivalent to an ignorant person (jaahil).
14
dhoka na de tujh’e merii darmaandagii kahiiN
maiN vo shikasta-paa huuN keh manzil kah’eN jis’e
The poet/seeker warns against misinterpreting his physical exhaustion and helpless state (darmaandagii) as a failure to arrive. His broken condition (shikasta-paa) is not an interruption or a breakdown along the way, but the necessary, inevitable outcome of absolute commitment to the journey. Because there is no static external finish line, the weariness earned through the process of total seeking becomes the true destination (manzil) and the seeker’s state represents that destination.
15
jazb-e nehaaN kii rau se tavajjoh to bas vo hai
Khaal-e ruKh-e sabiih pe maa’el kah’eN jis’e
Beyond its surface appearance as a romantic trope, the couplet defines the nature of authentic focus and undivided devotion (tavajjoh). Using the beauty spot on a radiant face (Khaal-e ruKh-e sabiih) as a metaphor for a single, compelling focal point, the poet asserts that true concentration cannot be artificially manufactured or forced by external duty. Instead, genuine (bas vo hai – it is only that) focus is an organic, involuntary event—an absolute absorption driven solely by a deep, internal current of hidden passion (jazb-e nehaaN).
16
vo ek Khayaal kaash keh lafzoN meN Dhal sak’e
sanjiidagii kii fikr kaa haasil kah’eN jis’e
The poet expresses a wish that a specific abstract thought vo ek Khayaal – the culmination of rigorous, serious reflection (sanjiidagii kii fikr) – could be successfully translated into explicit human words (lafzoN meN Dhal sake) and in such words as can be called the essence of serious reflection. The poet is expressing his exasperation that he/no one can mould serious reflection into the superficiality of words. Ghalib expresses his difficulty in casting thoughts/conception into words thus …
Ghalib nabuvad sheva-e man qaafiya bandi
zulmiist ke bar kilk o varaq meekunam imshab
O, Ghalib, it is not my practice to do word-smithing
It is cruelty that I visit on pen and paper tonight
17
tahsiin-e ahl-e fan ke li’e kar rahaa huuN pesh
aasaaN hadiis-e ‘ishq keh mushkil kah’eN jis’e
The discourse on true love and human passion (hadiith-e ‘ishq) is inherently dense, complex, and difficult to grasp (mushkil kah’eN jis’e). I am presenting (pesh kar rahaa huN) a more direct and simple story (aasaan hadiis) so that you may appreciate and offer tahsiin.
18
dekheNge iss Ghazal meN dhaRaktaa huaa vo dil
raa’naa’ii-e Khayaal kaa bismil kah’eN jis’e
The poet claims that in this Ghazal, readers will find a beating heart. This heart is described as a victim or sacrifice (bismil) brought down by the overwhelming grace and beauty of poetic imagination (raa’naa’ii-e Khayaal). This is the same thought/imagination that was so difficult to cast into words in the previous sh’er. The Ghazal is a wounded reflection of the grandeur of that thought.
19
merii navaa hai maatam-e yak shahr-e aarzuu
yaa’nii firaaq ahl-e jahaaN dil kah’eN jis’e
In the closing couplet, firaaq continues to express the inadequacy of words to reflect intense internal feelings. His poetic voice (navaa) which is really his Ghazal is nothing but a lament for the domain of human desires. What the rest of the world casually calls “the heart” (dil) is, for the poet, the expression of this desire – the bismil of the grandeur of poetic thought/human desire.