Recitation
خط کے جواب میں (۱۔۹) ۔ حیدر علی آتشؔ
۱
طِفلی سے اور قہر ہوا وہ شباب میں
تابِش ہو دوپہر کو فزوں آفتاب میں
۲
گو عاشقوں میں نام سرِ فرد ہے رقم
بھولا ہے مجھ کو صاحبِ دفتر حساب میں
۳
جلوے سے اس کے نور جو بالائے بام ہے
یہ روشنی نہیں ہے فلکِ آفتاب میں
۴
ٹٹّی کی اوٹ میں وہ کیا کرتے ہیں شکار
منہ کو چھپا کے رکھتے ہیں اپنے نقاب میں
۵
ایسا بُھنا ہے آتشِ فُرقت میں دل مرا
سونگھو تو بُوئے گوشت نہیں اِس کباب میں
۶
آنکھ اپنی پڑنے کی نہیں اُس رُخ کو دیکھ کر
ذرّے رہیں مشاہدۂ آفتاب میں
۷
ابرو کا ترے دیدۂ تر میں رہا خیال
دیکھا کیے ہلال کو ہم طشتِ آب میں
۸
جب اِشتیاق لِکھا ہے خونخوار یار کو
قاصد کا کشتہ آیا ہے خط کے جواب میں
۹
کِس کِس کے دل میں نقش ہوا روئے یار کا
کیا کیا نگیں کُھدے شرفِ آفتاب میں
خواجہ حیدر علی آتشؔ (۱۷۷۸۔۱۸۴۹) فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک صوفی خاندان سے تھے، جو بنیادی طور پر بغداد کا رہنے والا تھا اور وہاں سے ہجرت کر کے دہلی آیا تھا۔ حیدر علی کے والد علی بخش فیض آباد آ کر رہنے لگے تھے، جہاں حیدر علی آتشؔ کی پیدائش ہوئی۔ جب وہ چھوٹے بچے تھے تب ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے وہ کوئی باقاعدہ اسکول کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔ انہوں نے فیض آباد کے نواب کے ہاں کسی عہدے پر کام کیا اور ۱۸۰۴ میں لکھنؤ چلے گئے۔ مانا جاتا ہے کہ وہ چھوٹی عمر سے ہی شاعری کرنے لگے تھے اور فیض آباد کی ادبی محفلوں میں حصہ لیتے تھے، لیکن لکھنؤ جانے سے پہلے کی ان کی لکھی ہوئی کسی چیز کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔ وہ مصحفی کے شاگرد تھے اور انہوں نے فارسی اور اردو دونوں میں لکھا۔ انہیں اودھ کے دربار سے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا جو ان کے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے بمشکل ہی پورا ہوتا تھا۔ کچھ شاگرد کبھی کبھار مدد کر دیا کرتے تھے، جسے وہ قبول کر لیتے تھے لیکن انہوں نے دربار یا کسی اور کی سرپرستی قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ بڑھاپے میں ان کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی تھی اور ان کے بیٹے نے ان کا سہارا بن کر انہیں سنبھالا۔ آتشؔ نے جسمانی اور ظاہری لذتوں کے بارے میں دوسرے بہت سے شاعروں کے مقابلے میں زیادہ کھل کر لکھا ہے۔
۱
طفلی۱ سے اور قہر۲ ہوا وہ شباب۳ میں
تابِش۴ ہو دوپہر کو فزوں۵ آفتاب میں
۱۔بچپن ۲۔آفت، بلا، ظلم ۳۔جوانی ۴۔روشنی، گرمی ۵۔بڑھی ہوئی، زیادہ
محبوب بچپن سے جوانی تک پہنچتے پہنچتے ایک آفت بن گیا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے دوپہر کے وقت سورج کی تپِش/روشنی صبح کے مقابلے میں بہت زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔
۲
گو۱ عاشقوں میں نام سرِ۲ فرد۳ ہے رقم۴
بھولا ہے مجھ کو صاحبِ دفتر۵ حساب میں
۱۔حالانکہ ۲۔اوپر، پہلے ۳۔فہرست ۴۔لکھا ۵۔قسمت کی کتان کا مالک
حالانکہ میرا نام عاشقوں کی فہرست میں سب سے اوپر لکھا ہوا ہے، لیکن قسمت لکھنے والے نے میرا حساب کتاب رکھنا چھوڑ دیا ہے اور مجھے بھول گیا ہے۔ یعنی محبت میں مشہور ہونے کے باوجود محبوب کی طرف سے نظر انداز کیے جانے کا بیان ہے۔
۳
جلوے۱ سے اس کے نور جو بالائے۲ بام۳ ہے
یہ روشنی نہیں ہے فلکِ۴ آفتاب میں
۱۔رونق، نظارہ، خوبصورتی ۲۔اوپر ۳۔چھت ۴۔آسمان
محبوب کا چھت پر آنا (شاید صرف اپنے بال سکھانے کے لیے) اُردو شاعری کا ایک پرانا انداز ہے۔ جب وہ چھت پر آتا ہے تو اس کا جلوہ چھت سے ایسی روشنی پھیلاتا ہے جو سورج کی چمک سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہے۔
۴
ٹٹّی کی اوٹ میں وہ کیا کرتے ہیں شکار
منہ کو چھپا کے رکھتے ہیں اپنے نقاب میں
نقاب ایک اوٹ یا پردے کی طرح ہے جس کے پیچھے چھپ کر محبوب اپنے شکار کو پکڑتا ہے۔ وہ اپنے چہرے کو نقاب میں چھپا کر رکھتا ہے اور پھر بھی اپنے شکار کو مٹانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
۵
ایسا بُھنا ہے آتشِ۱ فُرقت۲ میں دل مرا
سونگھو تو بُوئے گوشت نہیں اِس کباب میں
۱۔آگ ۲۔جدائی
شاعر یا عاشق کا دل جدائی کی آگ میں اِس طرح جل کر کوئلہ ہو چکا ہے کہ اب اُس میں گوشت کی بُو تک باقی نہیں رہی، بس حسرتوں کی راکھ بچی ہے۔ اگر آپ گہرا سانس لے کر سونگھنے کی کوشش بھی کریں، تو اس کباب میں جلی ہوئی راکھ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
۶
آنکھ اپنی پڑنے کی نہیں اُس رُخ۱ کو دیکھ کر
ذرّے رہیں مشاہدۂ۲ آفتاب میں
۱۔چہرہ، صورت ۲۔نظارہ
محبوب کے چہرے کو دیکھنے کے بعد شاعر یا عاشق کی آنکھیں اس طرح چندھیا گئی ہیں کہ وہ کسی اور چیز کو دیکھ ہی نہیں سکتا۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے سورج کی طرف دیکھنے کے بعد مٹی کے ذرے نظر آنا بند ہو جاتے ہیں، یعنی انسان اتنا دنگ رہ جاتا ہے کہ اسے صرف سورج کی چمک ہی دکھائی دیتی ہے۔
۷
ابرو کا ترے دیدۂ تر۱ میں رہا خیال
دیکھا کیے ہِلال۲ کو ہم طشتِ۳ آب۴ میں
۱۔آنسو سے بھری آنکھ ۲۔پہلی کا چاند ۳۔چھوٹی تھالی، برتن ۴۔پانی
شاعر یا عاشق محبوب کے ابرو کے خم کو یاد کرتا ہے۔ جدائی کے درد کی وجہ سے آنکھ میں آنسو بھر آتے ہیں۔ لیکن آنسوؤں سے بھری آنکھوں میں بھی اس کے ابرو کا نقش قائم رہتا ہے۔ یہ منظر ایسا لگتا ہے جیسے پانی کے پیالے میں پہلی کے چاند کا عکس دیکھا جا رہا ہو۔ آنسو بھری آنکھ پانی کی طشتری کی طرح ہے۔
۸
جب اِشتیاق۱ لِکھا ہے خونخوار یار کو
قاصد۲ کا کُشتہ۳ آیا ہے خط کے جواب میں
۱۔خواہش، تمنّا ۲۔نامہ بر ۳۔قتل
جب شاعر یا عاشق نے اپنے خونخوار محبوب کو اپنی تڑپ اور شوق کا خط لکھا، تو جواب میں اسے یہ خبر ملی کہ اس کے قاصد کو قتل کر دیا گیا ہے۔ غالب نقشِ قدم کے تحت جمع کی گئی “خط کے جواب میں” کی مختلف بندشوں کو بھی دیکھیں۔
۹
کِس کِس کے دل میں نقش۱ ہوا روئے۲ یار کا
کیا کیا نگیں کُھدے شرفِ آفتاب۳ میں
۱۔تصویر ۲۔چہرہ ۳۔آفتاب کی شان کا عروج جب آفتاب بُرجِ حمل (Aries) میں ہو
اس شعر میں شاعر کی باریکی کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کو جاننا ضروری ہے۔ “شرفِ آفتاب” سورج کے سب سے بلند اور معزز مرتبے کو کہتے ہیں۔ یہ ایک نجومی عقیدہ ہے جو قدیم یونانی کہانیوں سے ہوتا ہوا عربی، فارسی اور پھر اُردو تک پہنچا۔ اس عقیدے کے مطابق شرفِ آفتاب کا وقت تب آتا ہے جب سورج بُرجِِ حمل (Aries) میں داخل ہوتا ہے۔ یہ سال میں ایک بار آنے والا انتہائی مبارک وقت ہوتا ہے، اور مانا جاتا ہے کہ اگر اس خاص لمحے میں کسی نگینے پر سورج کی تصویر یا اس سے ملتی جلتی کوئی شکل کھودی جائے تو وہ ایک تعویذ بن جاتا ہے۔ اس طرح دوسرے مصرعے کا مطلب یہ بنتا ہے: “شرفِ آفتاب کے وقت (جب سورج اپنے عروج پر تھا) کتنے ہی نگینے کھودے گئے”۔ اب اس کا تعلق پہلے مصرعے سے یوں بنتا ہے کہ محبوب کا چہرہ اسی چمکتے ہوئے سورج کی طرح اپنے پورے عروج پر ہے، اور اپنے لیے خوش قسمتی کی امید میں نہ جانے کتنے ہی عاشقوں کے دلوں پر محبوب کے چہرے کا نقش کھد گیا ہے۔
ख़त के जवाब में – हैदर अली आतिश
१
तुफ़्ली से और क़हर हुआ वो शबाब में
ताबिश हो दोपहर को फ़ुज़ूँ आफ़्ताब में
२
गो आशिक़ों में नाम सर-ए फ़र्द है रक़म
भूला है मुझ को साहिब-ए दफ़्तर हिसाब में
३
जल्वे से उसके नूर जो बाला-ए बाम है
ये रौशनी नहीं है फ़लक-ए आफ़्ताब में
४
टट्टी की ओट में वो किया करते हैं शिकार
मुंह को छुपा के रखते हैं अपने नक़ाब में
५
ऐसा भुना है आतिश-ए फ़ुर्क़त में दिल मेरा
सूंघो तो बू-ए गोश्त नहीं इस कबाब में
६
आंख अपनी पढने की नहीं उस रुख़ को देख कर
ज़र्रे रहें मुशाहिदा-ए आफ़्ताब में
७
अब्रू का तेरे दीदा-ए तर में रहा ख़याल
देखा किए हिलाल को हम तश्त-ए आब में
८
जब इश्तियाक़ लिक्खा है ख़ूँख़्वार यार को
क़ासिद का क़त्ल आया है ख़त के जवाब में
९
किस किस के दिल में नक़्श हुआ रू-ए यार का
क्या क्या नगीं खुदे शरफ़-ए आफ़्ताब में
ख़्वाजा हैदर अली आतिश (१७७८-१८४९) का जन्म फ़ैज़ाबाद में हुआ था। वो एक सूफ़ी परिवार से थे, जो मूल रूप से बग़्दाद का रहने वाला था और वहाँ से माइग्रेट कर के दिल्ली आया था। हैदर अली के पिता अली बख़्श फ़ैज़ाबाद में आ कर रहने लगे थे, जहाँ हैदर अली आतिश पैदा हुए। जब वो छोटे बच्चे थे तभी उनके पिता का देहांत हो गया, जिस की वजह से वो कोई फॉर्मल (स्कूली) पढ़ाई-लिखाई हासिल नहीं कर पाए। उन्होंने फ़ैज़ाबाद के नवाब के यहाँ किसी पद पर काम किया और १८०४ में लखनऊ चले गए। माना जाता है के वो छोटी उम्र से ही शा’एरी करने लगे थे और फ़ैज़ाबाद की साहित्यिक महफ़िलों में हिस्सा लेते थे, लेकिन लखनऊ जाने से पहले की उनकी लिखी हुई किसी चीज़ का कोई रेकॉर्ड नहीं मिलता। वो मुस’हफ़ी के शागिर्द (शिष्य) थे और उन्हों ने फ़ारसी और उर्दू दोनों में लिखा। उन्हें अवध के दरबार से हर महीने वज़ीफ़ा (पेंशन) मिलता था जो उनके परिवार का पेट पालने के लिए बमुश्किल ही पूरा होता था। कुछ शागिर्द कभी-कभार मदद कर दिया करते थे, जिसे वो रख लेते थे लेकिन उन्होंने किसी और की सरपरस्ती या मदद लेने से साफ़ इन्कार कर दिया। बुढ़ापे में उन की आँखों की रोशनी चली गई थी और उनके बेटे ने उनको सहारा दिया। आतिश ने शारीरिक और जिस्मानी सुखों के बारे में दूसरे कई शो’अरा के मुक़ाबले ज़्यादा खुल कर लिखा है।
१
तिफ़्ली१ से और क़हर२ हुआ वो शबाब३ में
ताबिश४ हो दोपहर को फ़ुज़ूँ५ आफ़्ताब६ में
१-बचपन २-आफ़त, चंचल ३-जवानी, युवा ४-रौशनी, गर्मी ५-ज़्यादा, अधिक ६-सूरज
महबूब बचपन से जवानी तक पहुँचते-पहुँचते एक आफ़त बन गया है, बिल्कुल वैसे ही जैसे दोपहर के समय सूरज की तपन सुब्ह के मुक़ाबले में बहुत ज़्यादा तेज़ हो जाती है।
२
गो१ आशिक़ों में नाम सर२-ए फ़र्द३ है रक़म४
भूला है मुझ को साहिब-ए-दफ़्तर५ हिसाब में
१-भले, हालांके २-ऊंचा ३-फ़हरिस्त, लिस्ट ४-लिखा ५-(क़िस्मत की) किताब का मालिक (लिखने वाला)
भले ही मेरा नाम आशिक़ों की लिस्ट में सबसे ऊपर लिखा हुआ है, लेकिन क़िस्मत लिखने वाले ने मेरा हिसाब-किताब रखना छोड़ दिया है और मुझे भूल गया है। यानी मोहब्बत में मश्हूर होने के बावजूद अनदेखा किये जाने की बात कही गई है।
३
जल्वे१ से उस के नूर२ जो बाला३-ए बाम४ है
ये रौशनी नहीं है फ़लक५-ए आफ़्ताब६ में
१-सूरत, सौंसर्य २-रौशनी ३-ऊपर ४-छत ५-आस्मान ६-सूरज
महबूब का छत पर आना (शा’एद सिर्फ़ अपने बाल सुखाने के लिये) उर्दू शा’एरी का एक पुराना अंदाज़ है। जब वो छत पर आती है, तो उसका नूर वहाँ से ऐसी रोशनी फैलाता है जो सूरज की चमक से भी ज़्यादा तेज़ होती है।
४
टट्टी की ओट में वो किया करते हैं शिकार
मुंह को छुपा के रखते हैं अपने नक़ाब में
नक़ाब एक ओट या परदे की तरह है जिसके पीछे छुपकर महबूब अपने शिकार को पकड़ती है। वह अपने चेहरे को नक़ाब में छुपाकर रखती है और फिर भी अपने शिकार को गिराने में कामयाब हो जाती है।
५
ऐसा भुना है आतिश१-ए फ़ुर्क़त२ में दिल मेरा
सूंघो तो बू-ए गोश्त नहीं इस कबाब में
१-आग २-दूरी, जुदाई
आशिक़ का दिल जुदाई की आग में इस तरह जल कर कोयला हो चुका है के अब उसमें गोश्त की महक तक बाक़ी नहीं रही, बस हसरतों की राख बची है। अगर आप गहरा सांस लेकर सूँघने की कोशिश भी करें, तो इस कबाब में जली हुई राख के सिवा कुछ नहीं मिलेगा।
६
आंख अपनी पढने१ की नहीं उस रुख़२ को देख कर
ज़र्रे३ रहें मुशाहिदा४-ए आफ़्ताब५ में
१-आंख पढना-नज़र ठहरना, दिखाई देना २-चेहरा ३-कण, तिन्के ४-देखना ५-सूरज
महबूब के चेहरे को देखने के बाद आशिक़ की आँखें इस तरह चौंधिया गई हैं के वो किसी और चीज़ को देख नहीं दे सकता। ये बिल्कुल वैसे ही है जैसे सूरज की तरफ़ देखने के बाद धूल के छोटे कण नज़र आना बंद हो जाते हैं, यानी इंसान इतना दंग रह जाता है के उसे सिर्फ़ सूरज की तेज़ चमक ही दिखाई देती है।
७
अब्रू१ का तेरे दीदा-ए-तर२ में रहा ख़याल
देखा किये हिलाल३ को हम तश्त४-ए आब५ में
१-भौं २-आंसु भरी आंख ३-पहली का चांद ४-छोटी थाली ५-पानी
आशिक़ महबूब के भौंहों (eyebrows) के घुमाव को याद करता है। जुदाई के दर्द की वजह से ये याद उसे रुलाती है। लेकिन आँसुओं से भरी आँखों में भी उसकी भौंहों का नक़्शा बना रहता है। ये नज़ारा ऐसा लगता है जैसे पानी के कटोरे में पहली के चाँद की परछाईं देखी जा रही हो।
८
जब इश्तियाक़१ लिक्खा है ख़ूँख़्वार यार को
क़ासिद२ का क़त्ल आया है ख़त के जवाब में
१-चाहत, मोहब्बत २-संदेशवाहक, पत्रकार
जब आशिक़ ने अपनी बेरहम और ख़ूँख़्वार महबूब को अपनी तड़प और चाहत का ख़त लिखा, तो जवाब में उसे ये ख़बर मिली के उसके संदेशवाहक (क़ासिद) को मार दिया गया है। ‘ग़ालिब नक़्श-ए क़दम’ के तहत इकट्ठा की गई “ख़त के जवाब में” की अलग-अलग ग़ज़्लें भी देखें।
९
किस किस के दिल में नक़्श१ हुआ रू२-ए यार का
क्या क्या नगीं३ खुदे शरफ़-ए-आफ़्ताब४ में
१-छापा लगना, तस्वीर बनना २-चेहरा ३-रतन, मोती ४-सूरज अपने चरम पर मेष राशी में
इस शे’र के बारीक अंदाज़ को पूरी तरह समझने के लिये इसके बैकग्राउंड को जानना ज़रूरी है। “शरफ़-ए आफ़्ताब” सूरज की सबसे ऊँची और ख़ास पोज़ीशन को कहते हैं। ये एक ज्योतिष (astrological) धारणा है जो पुरानी यूनानी कहानियों से होती हुई अरबी, फ़ारसी और फिर उर्दू तक पहुँची। इस मान्यता के मुताबिक़ शरफ़-ए आफ़्ताब का वक़्त तब आता है जब सूरज मेष राशि (Aries) में आता है। ये साल में एक बार आने वाला बेहद शुभ वक़्त होता है, और माना जाता है के अगर इस ख़ास पल में किसी रत्न या नगीने पर सूरज की तस्वीर या उससे मिलती-जुलती कोई आकृति बनाई जाए, तो वो एक जादुई तावीज़ बन जाता है। इस तरह दूसरे मिस्रे का मतलब ये बनता है: “वाह, शरफ़-ए आफ़्ताब के वक़्त (जब सूरज अपने चरम पर था) कितने ही नगीने खोदे गए”। अब इसका कनेक्शन पहले मिस्रे से यूँ बैठता है के महबूब का चेहरा उसी चमकते हुए सूरज की तरह अपने पूरे शबाब पर है, और अपने लिये अच्छी क़िस्मत की उम्मीद में न जाने कितने ही आशिक़ों के दिलों पर महबूब के चेहरे की छवि छप गई है।
Khat ke javaab meN-haidar ali aatish
1
tifli se aur qahr hua vo shabaab meN
taabish ho dopahar ko fuzuuN aaftaab meN
2
go aashiqoN meN naam sar-e fard hai raqam
bhuulaa hai mujh ko saahib-e-daftar hisaab meN
3
jalve se uss ke nuur jo baalaa-e baam hai
ye raushni nahiiN hai falak-e aaftaab meN
4
TaTTi ki oaT meN vo kiyaa kart’e haiN shikaar
muNh ko chhupaa ke rakht’e haiN apne naqaab meN
5
aisaa bhunaa hai aatish-e furqat meN dil meraa
suuNgho to buu-e gosht nahiN is kabaab meN
6
aaNkh apni paRne ki nahiN us ruKh ko dekh kar
zarre raheN mushaahida-e aaftaab meN
7
abruu kaa ter’e diida-e tar meN rahaa Khayaal
dekhaa kiye hilaal ko ham tasht-e aab meN
8
jab ishtiaaq likkhaa hai KhuuNKhwaar yaar ko
qaasid kaa qatl aayaa hai Khat ke javaab meN
9
kis kis ke dil meN naqsh huaa ruu-e yaar kaa
kyaa kyaa nagiiN khud’e sharaf-e aaftaab meN
Khwaaja haider ali aatish (1778-1849), was born in faizabad. He was from a sufi family, originally from baGhdaad, who migrated to dehli. haidar ali’s father ali baKhsh came to live in faizabad, where haidar ali aatish was born. His father died when he was a young child and he did not receive any formal schooling. He worked for the nawab of faizabad in some capacity and moved to lukhnau in 1804. It is thought that he composed poetry from a young age and was active in poetic circles in faizabad, but there is no record of anything he wrote, except after he moved to lukhnau. He was a disciple of mus’hafi and wrote both in faarsi and urdu. He received a monthly pension from the avadh court which was barely enough to feed his family. Some disciples helped occasionally, which he accepted but refused all other patronage. He lost his eyesight in old age and his son supported him. aatish wrote more explicitly than most about the pleasures of the flesh.
1
tifli1 se aur qahr2 hua vo shabaab3 meN
taabish4 ho dopahar5 ko fuzuuN6 aaftaab7 meN
1.childhood 2.calamity 3.youth 4.brilliant, hot 5.afternoon 6.increases 7.sun
From childhood to youth, the beloved turned into a calamity – like the mid-day sun becoming much more scorching than at dawn.
2
go1 aashiqoN2 meN naam sar3-e fard4 hai raqam5
bhuulaa6 hai mujh ko saahib-e-daftar7 hisaab8 meN
1.even though 2.lovers 3.head, top 4.list 5.written 6.forgotten 7.record-keeper, writer of fate 8.accounting
Even though my name tops the list of lovers, the divine record-keeper (scribe of fate) has forgotten to keep account of me. A commentary on being renowned in love, yet still feeling overlooked or neglected.
3
jalve1 se uss ke nuur2 jo baalaa3-e baam4 hai
ye raushni nahiiN hai falak5-e aaftaab6 meN
1.glory, radiance 2.light 3.top of 4.roof 5.sky 6.sun
The beloved coming on the rooftop (maybe just to dry her hair) is an old trope in urdu poetry. When she does, her radiance casts/spreads such light from the rooftop that it is brighter even than the sun’s brilliance.
4
TaTTi1 ki oaT2 meN vo kiyaa kart’e haiN shikaar3
muNh ko chhupaa ke rakht’e haiN apne naqaab4 meN
1.screen 2.behind, camouflage 3.hunt 4.veil
The naqaab is like a screen from behind which the beloved hunts her prey. She keeps her face hidden behind a veil and is still able to hunt down her prey.
5
aisaa bhunaa1 hai aatish2-e furqat3 meN dil meraa
suuNgho4 to buu5-e gosht6 nahiN is kabaab meN
1.roasted, burnt 2.fire 3.separation 4.smell, inhale 5.scent 6.flesh
The poet/lover’s heart has burned/charred so intensely in the fire of separation that there’s no scent of flesh left, just ashes of longing. Even if you take a deep breath and try to smell, there is nothing left in the kabaab but burnt char.
6
aaNkh apni paRne1 ki nahiN us ruKh2 ko dekh kar
zarre3 raheN mushaahida4-e aaftaab5 meN
1.aaNkh paRna – eyes rest on, see anything 2.face 3.specks, grains 4.seeing 5.sun
The poet/lover’s eyes are so dazed after looking at the beloved’s face that he cannot focus on anything else, just like speck of dust/grains of sand cannot be seen when looking at the sun i.e., you are so dazed that all you can see is the brilliance of sun.
7
abruu1 kaa ter’e diida2-e tar3 meN rahaa Khayaal
dekhaa kiye hilaal4 ko ham tasht5-e aab6 meN
1.eyebrow 2.eyes 3.wet, tearful 4.crescent moon 5.plate 6.water
The poet/lover thinks of/imagines the curve of the beloved’s eyebrows. This memory causes him to weep because of the pain of separation. Even in teary eyes, the curve of her eyebrow remains etched. It is as if he is looking at the reflection of the crescent moon in a bowl of water.
8
jab ishtiaaq1 likkhaa hai KhuuNKhwaar2 yaar3 ko
qaasid4 kaa qatl5 aayaa hai Khat6 ke javaab7 meN
1.desire, yearning 2.bloodthirsty 3.beloved 4.messenger 5.killing 6.letter, message 7.reply, answer
When the poet/lover wrote of his yearning to the bloodthirsty beloved, he received a response saying that the messenger was killed. Also see the range of composition about ‘Khat ke javaab meN’ collected under Ghalib naqsh-e qadam.
9
kis kis ke dil meN naqsh1 huaa ruu2-e yaar3 kaa
kyaa kyaa nagiiN4 khud’e sharaf5-e aaftaab6 meN
1.engraved 2.face 3.beloved 4.jewels 5.honour 6.sun
In order to fully appreciate the poet’s subtlety in this she’r some background needs to be discussed. sharaf-e aaftaab is the most exalted/honoured position of the sun. An astrological belief carried from ancient Greek myths all the way through arabi and faarsi to urdu. The myth is that sharaf-e aaftaab occurs when the sun coincides with the position of Aries. This is a period (occuring annually) of extraordinarily good omen and if a jewel nagiina is engraved during this exact period, with the image or a close representation of the sun, then it acts like a talisman. Thus, the second misra becomes “O, how many jewels have been engraved (with the image of the sun) during sharaf-e aaftaab – the peak of exaltation of the sun”. This then relates to the first misra in which ruu-e yaar is like the exalted sun – at the peak of its brilliance and kis kis ke dil – the hearts of how many lovers – have been engraved with the image of the face of the beloved (like the sun) in the hopes of bringing good luck to the lover.