Recitation
خط کے جواب میں ۔ ۱۰۔۱۸۔ حیدر علی آتشؔ
۱۰
ہوتے ہیں قتل طالبِ دیدار بے گناہ
عریانی تیغ کی ہے تمہارے حِجاب میں
۱۱
اُس لالہ رُو کے رخ کے پسینے کو سونگھیے
ایسی لطیف بُو نہیں آبِ گُلاب میں
۱۲
خط کے یہ رونگٹے نہیں رخسارِ یار پر
بال آ گئے ہیں آئینۂ آفتاب میں
۱۳
گلگونِ یار چال ہے چلتا بہار کی
گل ہائے باغ رہتے ہیں اُس کی رکاب میں
۱۴
جانِ عزیز کرتے ہیں تم پر نثار ہم
دل کس شمار میں ہے جگر کس حساب میں
۱۵
آنکھوں کو گور میں بھی رہے گا خیالِ یار
مشتاق ہوں زیارتِ یوسف کا خواب میں
۱۶
نا فہم شاعروں نے کہا ہے جو ہیچ اُسے
زلفوں سے وہ کمر ہے سِوا پیچ و تاب میں
۱۷
بے یار گھر نہیں لحد تنگ ہے مجھے
روز اور شب فراق سے ہوں کس عذاب میں
۱۸
مجھ مست کو بہار میں ہے آرزو یہی
دریا دلی سے ساقی کی تیروں شراب میں
خواجہ حیدر علی آتشؔ (۱۷۷۸۔۱۸۴۹) فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک صوفی خاندان سے تھے، جو بنیادی طور پر بغداد کا رہنے والا تھا اور وہاں سے ہجرت کر کے دہلی آیا تھا۔ حیدر علی کے والد علی بخش فیض آباد آ کر رہنے لگے تھے، جہاں حیدر علی آتشؔ کی پیدائش ہوئی۔ جب وہ چھوٹے بچے تھے تب ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے وہ کوئی باقاعدہ اسکول کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔ انہوں نے فیض آباد کے نواب کے ہاں کسی عہدے پر کام کیا اور ۱۸۰۴ میں لکھنؤ چلے گئے۔ مانا جاتا ہے کہ وہ چھوٹی عمر سے ہی شاعری کرنے لگے تھے اور فیض آباد کی ادبی محفلوں میں حصہ لیتے تھے، لیکن لکھنؤ جانے سے پہلے کی ان کی لکھی ہوئی کسی چیز کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔ وہ مصحفی کے شاگرد تھے اور انہوں نے فارسی اور اردو دونوں میں لکھا۔ انہیں اودھ کے دربار سے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا جو ان کے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے بمشکل ہی پورا ہوتا تھا۔ کچھ شاگرد کبھی کبھار مدد کر دیا کرتے تھے، جسے وہ قبول کر لیتے تھے لیکن انہوں نے دربار یا کسی اور کی سرپرستی قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ بڑھاپے میں ان کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی تھی اور ان کے بیٹے نے ان کا سہارا بن کر انہیں سنبھالا۔ آتشؔ نے جسمانی اور ظاہری لذتوں کے بارے میں دوسرے بہت سے شاعروں کے مقابلے میں زیادہ کھل کر لکھا ہے
۱۰
ہوتے ہیں قتل طالبِ۱ دیدار۲ بے گناہ
عریانی۳ تیغ۴ کی ہے تمہارے حِجاب۵ میں
۱۔طلبگار، تمنّائی ۲۔جھلک ۳۔نیام کے باہر ہونا ۴۔تلوار ۵۔پردا
آتش یہاں ایک تضاد سے کام لے رہے ہیں: محبوب حجاب (پردے) میں ہے، لیکن اس کا حُسن پردے سے چھن کر بھی ایک ننگی تلوار کی طرح قتل کر سکتا ہے، چاہے وہ حسن پردے میں ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں تک کہ وہ معصوم لوگ جو صرف ایک جھلک دیکھنے کی تمنّا رکھتے ہیں، وہ بھی مارے جاتے ہیں۔ حجاب کے پیچھے سے بھی اُس کے حُسن میں ایک ننگی تلوار جیسی تیزی اور دھار ہے۔
۱۱
اُس لالہ رُو۱ کے رُخ۲ کے پسینے کو سونگھیے
ایسی لطیف۳ بُو نہیں آبِ گُلاب میں
۱۔لال دمکتا ہوا ۲۔چہرہ ۳۔لطف دینے والی، سُبُک، دھیمی
محبوب کا چہرہ گُلِ لالہ کی طرح خوبصورت اور دمکتا ہوا ہے۔ اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے ایسے لگتے ہیں جیسے پھول کی پتیوں پر شبنم کے قطرے ہوں۔ لیکن ان قطروں کی خوشبُو گلاب کے عرق (آبِ گلاب) کی خوشبُو سے کہیں زیادہ عمدہ اور بہترین ہے۔
۱۲
خط کے یہ رونگٹے نہیں رُخسارِ یار پر
بال آ گئے ہیں آئینۂ آفتاب میں
شاعر یہاں ‘خط کے رونگٹے’ سے مراد باریک لکیریں لے رہا ہے، جو شاید محبوب کے چہرے پر پڑنے والی ہلکی سی جھریاں ہیں۔ چنانچہ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ محبوب کے رخسار پر جو آپ کو نظر آ رہا ہے وہ باریک جھریاں نہیں ہیں، بلکہ ‘آئینۂ آفتاب’ یعنی محبوب کے روشن چہرے میں ایک آئینے کی طرح باریک بال (شگاف۔fine cracks) آ گئے ہیں۔ یہ آئینے بنانے کے پرانے طریقے کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے، جب شیشہ اور چمکدار کوٹنگ دستیاب نہیں تھی۔ اس دور میں دھات کی چادروں کو بہت باریک پالش کر کے چمکدار عکاسی کرنے والی سطح بنائی جاتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پالش کی لکیریں ابھر ہی آتی تھیں۔
۱۳
گلگونِ۱ یار۲ چال ہے چلتا۳ بہار کی
گل ہائے۴ باغ رہتے ہیں اُس کی رکاب۵ میں
۱۔گلابی رنگ ۲۔محبوب ۳۔چال چلنا=شرارت کرنا ۴۔گُل کی جمع ۵۔قبضہ میں رہنا
محبوب کا رنگ و روپ گلابی (گلاب جیسا) ہے۔ یہ رنگت بالکل وہی چال چلتی ہے/کھیل کھیلتی ہے جو بہار چلتی ہے۔ باغ کے تمام پھول محبوب کے پیچھے چلتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں—’رکاب میں رہنا’ کا مطلب ہے کسی کے ساتھ ساتھ یا اسی کے نقشِ قدم پر چلنا۔ اس طرح محبوب اس رنگ برنگے باغ میں خوبصورتی کی ایک مثال قائم کرتا ہے۔
۱۴
جانِ عزیز۱ کرتے ہیں تم پر نثار۲ ہم
دِل کس شمار۳ میں ہے جِگر کس حساب میں
۱۔پیاری ۲۔صدقہ ۳۔گنتی
شاعری کی روایت میں دل کو زندگی اور محبت کا مرکز مانا جاتا ہے اور جگر کو ہِمّت، حوصلے اور ضبط کا مرکز۔ چنانچہ شاعر/عاشق اعلان کرتا ہے کہ میں اپنی پیاری اور قیمتی جان آپ پر قربان کرتا ہوں، تو پھر اس کے سامنے ایک معمولی دل یا جگر کی کیا حیثیت یا حساب کتاب ہو سکتا ہے؟
۱۵
آنکھوں کو گور۱ میں بھی رہے گا خیالِ یار
مشتاق۲ ہوں زیارتِ۳ یوسف کا خواب میں
۱۔قبر ۲۔آرزُو مند، اُمّیدوار ۳۔ظہور، دکھائی دینا
قبر میں بھی شاعر کی آنکھوں کو محبوب کا خیال رہے گا۔ یوسف (جو حسنِِ خداداد کی علامت ہیں) کی زیارت کا خواب دیکھنا ہی اب آخری روحانی خواہش بن چکا ہے۔ محبوب کی خوبصورتی کو یوسف کی خوبصورتی کے برابر کہا گیا ہے۔
۱۶
نا فہم شاعروں نے کہا ہے جو ہیچ اُسے
زلفوں سے وہ کمر ہے سِوا پیچ و تاب میں
اردو شاعری کی روایت میں اکثر محبوب کی کمر کو ناپید یا معدوم (اتنی پتلی کہ غائب ہو جائے) بیان کیا جاتا ہے۔ لفظوں کے ہیر پھیر سے کام لیتے ہوئے آتش کہتے ہیں کہ شاعر اسے ‘ہیچ’ (کچھ نہیں) کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف نادان شاعر ہی اس کی کمر کو معمولی یا نہ ہونے کے برابر کہتے ہیں، جبکہ زلفوں کے خَم سے زیاوہ کمر میں لچک اور پیچ و تاب ہے۔ ایک سطح پر یہ جسمانی حسن کی تعریف ہے؛ علامتی طور پر یہ پوشیدہ کمال کے بارے میں ہے—یعنی حسنِ حقیقی بہت باریک ہوتا ہے، جو ‘نا فہم’ ذہنوں کی سمجھ میں آسانی سے نہیں آتا۔
۱۷
بے یار گھر نہیں لحدِ۱ تنگ ہے مجھے
روز اور شب فراق۲ سے ہوں کس عذاب میں
۱۔قبر۲۔محبوب سے جدائی
شاعر اس بات کا رونا روتا ہے کہ محبوب کے بغیر اس کا گھر اسے گھر نہیں بلکہ ایک تنگ قبر کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ جدائی (فراق) کے دکھ نے اُسے اِس قدر عذاب میں ڈال دیا ہے کہ وہ اپنے ہی گھر میں خود کو قید محسوس کرتا ہے۔
۱۸
مجھ مست کو بہار میں ہے آرزو یہی
دریا دلی۱ سے ساقی کی تیروں شراب میں
۱۔فراخ دلی
شاعری کی روایت میں بہار کا موسم خوشی، محبت، ناچ گانے اور ظاہر ہے شراب پینے کا وقت ہوتا ہے۔ یہ موسم اس کے دل میں ایک تڑپ پیدا کرتا ہے—وہ بہار کے اس موسم میں ساقی سے ایسی دریا دلی (سخاوت) کی امید رکھتا ہے کہ اسے اتنی شراب مل جائے جس میں وہ تیر سکے۔
ख़त के जवाब में-१०-१८ – हैदर अली आतिश
१०
होते हैं क़त्ल तालेब-ए दीदार बे-गुनाह
उर्यानी तेग़ की है तुम्हारे हिजाब में
११
उस लाला-रू के रुख़ के पसीने को सूँघिए
ऐसी लतीफ़ बू नहीं आब-ए गुलाब में
१२
ख़त के ये रोंगटे नहीं रुख़सार-ए यार पर
बाल आ गए हैं आईना-ए आफ़्ताब में
१३
गुलगून-ए यार चाल है चलता बहार की
गुल’हा-ए बाग़ रहते हैं उस की रकाब में
१४
जान-ए अज़ीज़ करते हैं तुम पर निसार हम
दिल किस शुमार में है जिगर किस हिसाब में
१५
आँखों को गोर में भी रहेगा ख़याल-ए यार
मुश्ताक़ हूँ ज़्यारत-ए यूसुफ़ का ख़्वाब में
१६
ना-फ़हम शा’एरों ने कहा है जो हेच उसे
ज़ुल्फ़ों से वो कमर है सिवा पेच-ओ-ताब में
१७
बे-यार घर नहीं लहद तंग है मुझे
रोज़ और शब फ़िराक़ से हूँ किस अज़ाब में
१८
मुझ मस्त को बहार में है आर्ज़ू यही
दरिया-दिली से साक़ी की तैरूं शराब में
ख़्वाजा हैदर अली आतिश (१७७८-१८४९) का जन्म फ़ैज़ाबाद में हुआ था। वो एक सूफ़ी परिवार से थे, जो मूल रूप से बग़्दाद का रहने वाला था और वहाँ से माइग्रेट कर के दिल्ली आया था। हैदर अली के पिता अली बख़्श फ़ैज़ाबाद में आ कर रहने लगे थे, जहाँ हैदर अली आतिश पैदा हुए। जब वो छोटे बच्चे थे तभी उनके पिता का देहांत हो गया, जिस की वजह से वो कोई फॉर्मल (स्कूली) पढ़ाई-लिखाई हासिल नहीं कर पाए। उन्होंने फ़ैज़ाबाद के नवाब के यहाँ किसी पद पर काम किया और १८०४ में लखनऊ चले गए। माना जाता है के वो छोटी उम्र से ही शा’एरी करने लगे थे और फ़ैज़ाबाद की साहित्यिक महफ़िलों में हिस्सा लेते थे, लेकिन लखनऊ जाने से पहले की उनकी लिखी हुई किसी चीज़ का कोई रेकॉर्ड नहीं मिलता। वो मुस’हफ़ी के शागिर्द (शिष्य) थे और उन्हों ने फ़ारसी और उर्दू दोनों में लिखा। उन्हें अवध के दरबार से हर महीने वज़ीफ़ा (पेंशन) मिलता था जो उनके परिवार का पेट पालने के लिए बमुश्किल ही पूरा होता था। कुछ शागिर्द कभी-कभार मदद कर दिया करते थे, जिसे वो रख लेते थे लेकिन उन्होंने किसी और की सरपरस्ती या मदद लेने से साफ़ इन्कार कर दिया। बुढ़ापे में उन की आँखों की रोशनी चली गई थी और उनके बेटे ने उनको सहारा दिया। आतिश ने शारीरिक और जिस्मानी सुखों के बारे में दूसरे कई शो’अरा के मुक़ाबले ज़्यादा खुल कर लिखा है।
१०
होते हैं क़त्ल तालेब-ए दीदार बे-गुनाह
उर्यानी तेग़ की है तुम्हारे हिजाब में
आतिश यहाँ एक विरोधाभास (paradox) का इस्तेमाल कर रहे हैं: महबूब हिजाब (परदे) में है, लेकिन उसका हुस्न परदे से छन कर भी एक नंगी तलवार की तरह क़त्ल कर सकता है, भले ही वो हुस्न परदे में छुपा हो। यहाँ तक के वो बेक़ुसूर आशेक़ जो सिर्फ़ एक झलक देखने की चाह रखते हैं, वो भी मारे जाते हैं। उस के परदे वाले हुस्न में एक नंगी तलवार जैसी धार और तेज़ी है।
११
उस लाला१-रू२ के रुख़३ के पसीने को सूँघिए
ऐसी लतीफ़४ बू नहीं आब-ए-गुलाब५ में
१-फूल, ट्यूलिप २-सूरत, रंग ३-चेहरा ४-अच्छी, हल्की ५-गुलाब-जल
महबूब का चेहरा ‘गुल-ए-लाला’ (tulip) की तरह बेहद ख़ूबसूरत/रंगीन और चमकता हुआ है। उस के माथे पर पसीने की बूंदें ऐसी लगती हैं जैसे फूलों की पंखुड़ियों पर ओस की बूंदें हों। लेकिन इन बूंदों की ख़ुश्बू गुलाब के अर्क़ (गुलाब जल) की ख़ुशबू से कहीं ज़्यादा बेहतरीन और हल्की (delicate) है।
१२
ख़त१ के ये रोंगटे२ नहीं रुख़सार३-ए यार४ पर
बाल५ आ गए हैं आईना-ए आफ़्ताब६ में
१-बारीक लकीर २-बाल ३-चेहरा ४-महबूब ५-बाल के बरबर दरार, fine cracks ६-सूरज
कवि यहाँ ‘ख़त के रोंगटे’ से महबूब के चेहरे पर पड़ने वाली बारीक लकीरें या हल्की झुर्रियां मुराद ले रहा है। इस लिये, वो दावा करता है के महबूब के गालों पर जो आप को दिख रहा है, वो झुर्रियां नहीं हैं, बल्के ‘आईना-ए-आफ़्ताब’ यानी महबूब के सूरज जैसे चमकते चेहरे में एक आईने की तरह बारीक बाल (दरार) आ गए हैं। ये आईने बनाने के पुराने तरीक़े की तरफ़ भी इशारा हो सकता है, जब शीशा और रिफ़्लेक्टिव कोटिंग नहीं होती थी। उस ज़माने में धातु (metal) की परतों को बहुत बारीक पॉलिश कर के आईना बनाया जाता था, लेकिन समय के साथ उन पर पॉलिश की बारीक लकीरें उभर ही आती थीं।
१३
गुलगून१-ए यार२ चाल है चलता३ बहार की
गुल’हा४-ए बाग़ रहते हैं उस की रकाब५ में
१-गुलाबी रंग २-महबूब ३-चाल चलना-धोका देना ४-फूल/गुलाब का बहुवचन ५-क़ब्ज़े में रहना
महबूब का रंग-रूप गुलाब जैसा गुलाबी है। उस की ये रंगत ठीक वही चाल चलती है जो बहार का मौसम चलता है। बाग़ के सारे फूल महबूब के पीछे चलते हुए दिखाई देते हैं – ‘रकाब में रहना’ का मतलब है किसी के साथ-साथ या उसी के रास्ते पर चलना। इस तरह महबूब इस रंग-बिरंगे बाग़ में ख़ूबसूरती की मिसाल तय करता है।
१४
जान-ए अज़ीज़१ करते हैं तुम पर निसार२ हम
दिल किस शुमार३ में है जिगर किस हिसाब में
१-प्यारी २-त्याग ३-गिंती
काव्य परंपरा में दिल को प्यार और जिंदगी का केंद्र माना जाता है और जिगर को हिम्मत, सब्र और हौसले का। इस लिये, कवि/आशिक़ कहता है के जब मैं अपनी इतनी प्यारी और क़ीमती जान ही आप पर क़ुर्बान (निसार) कर रहा हूँ, तो फिर उस के सामने एक मामूली दिल या जिगर की क्या गिनती या हैसियत हो सकती है?
१५
आँखों को गोर में भी रहेगा ख़याल-ए यार
मुश्ताक़ हूँ ज़्यारत-ए यूसुफ़ का ख़्वाब में
क़ब्र में भी कवि की आँखों को अपने महबूब का ख़्याल रहे गा। यूसुफ़ (जो दैवीय सुंदरता के प्रतीक हैं) के दीदार का सपना देखना ही अब उस की आख़िरी आध्यात्मिक (spiritual) चाहत बन चुका है। महबूब की सुंदरता की तुलना यूसुफ़ की मानी हुई सुंदरता से की गई है।
१६
ना-फ़हम१ शा’एरों ने कहा है जो हेच२ उसे
ज़ुल्फ़ों३ से वो कमर है सिवा४ पेच-ओ-ताब५ में
१-नासमझ २-शून्य, न रहने के बराबर ३-बाल ४-ज़्यादा ५-लचक, घूंघर
उर्दू शा’एरी की परंपरा में अक्सर महबूब की कमर को नापायदार या ग़ा’एब (इतनी पतली के दिखे ही ना) बताया जाता है। शब्दों का हेर-फेर करते हुए आतिश कहते हैं के कवि उसे ‘हेच’ (कुछ नहीं या मामूली) कहते हैं। उनका कहना है के सिर्फ़ नासमझ (ना-फ़हम) कवि ही उस की कमर को मामूली कहते हैं, जब के कमर ज़ुल्फ़ौं से भी ज़्यादा लचक रखती है। एक स्तर पर ये शारीरिक सुंदरता की तारीफ़ है; और प्रतीकात्मक रूप से ये छुपी हुई पूर्णता (perfection) के बारे में है – यानी असली सुंदरता बहुत बारीक होती है, जो नासमझ दिमाग़ौं को आसानी से समझ नहीं आती।
१७
बे-यार घर नहीं लहद-ए तंग है मुझे
रोज़ और शब फ़िराक़ से हूँ किस अज़ाब में
कवि इस बात का रोना रोता है के महबूब के बिना उस का घर उसे घर नहीं बल्के एक तंग क़ब्र की तरह लगता है। जुदाई (फ़िराक़) के दर्द ने उसे इतना दुखी और मुसीबत (अज़ाब) में डाल दिया है के वो अपने ही घर में ख़ुद को क़ैद महसूस करता है।
१८
मुझ मस्त को बहार में है आर्ज़ू१ यही
दरिया-दिली२ से साक़ी की तैरूं शराब में
१-इच्छा, आशा २-दयालू, बढा दिल, उदारता
शा’एरी की परंपरा में बहार का मौसम मौज-मस्ती, प्यार, संगीत और यक़ीनन शराब पीने का समय होता है। ये मौसम उसके दिल में एक तड़प पैदा करता है – वो बहार के इस मौसम में साक़ी से ऐसी दरिया-दिली (उदारता) की उम्मीद रखता है के उसे नहाने या तैरने भर की शराब मिल जाए।
Khat ke javaab meN-10-18-haidar ali aatish
10
hot’e haiN qatl taalib-e diidaar be-gunaah
uryaani teGh ki hai tumhaare hijaab meN
11
us laala-ruu ke ruKh ke pasiine ko suuNghiye
aisi latiif buu nahiN aab-e-gulaab meN
12
Khat ke ye roNgTe nahiN ruKhsaar-e yaar par
baal-aa-ga’e haiN aaiina-e aaftaab meN
13
gulguun-e-yaar chaal hai chalta bahaar ki
gul’haa-e-baaGh raht’e haiN uss ki rakaab meN
14
jaan-e-aziiz kart’e haiN tum par nisaar hum
dil kis shumaar meN hai jigar kis hisaab meN
15
aaNkhoN ko gor meN bhi rahega Khayaal-e yaar
mushtaaq huN ziyaarat-e yuusuf ka Khwaab meN
16
na-fahm shaa’eroN ne kaha hai jo hech us’e
zulfoN se vo kamar hai siva pech-o-taab meN
17
be-yaar ghar nahiN lahad-e taNg hai mujhe
roz aur shab firaaq se huN kis azaab meN
18
mujh mast ko bahaar meN hai aarzu yahi
dariya-dili se saaqi ki tiiruuN sharaab meN
Khwaaja haider ali aatish (1778-1849), was born in faizabad. He was from a sufi family, originally from baGhdaad, who migrated to dehli. haidar ali’s father ali baKhsh came to live in faizabad, where haidar ali aatish was born. His father died when he was a young child and he did not receive any formal schooling. He worked for the nawab of faizabad in some capacity and moved to lukhnau in 1804. It is thought that he composed poetry from a young age and was active in poetic circles in faizabad, but there is no record of anything he wrote, except after he moved to lukhnau. He was a disciple of mus’hafi and wrote both in faarsi and urdu. He received a monthly pension from the avadh court which was barely enough to feed his family. Some disciples helped occasionally, which he accepted but refused all other patronage. He lost his eyesight in old age and his son supported him. aatish wrote more explicitly than most about the pleasures of the flesh.
10
hot’e haiN qatl1 taalib2-e diidaar3 be-gunaah4
uryaani5 teGh6 ki hai tumhaare hijaab7 meN
1.killed 2.seeker 3.sighting, glimpse (of the beloved) 4.through no fault 5.nakedness 6.sword (bare blade) 7.veil, covering
aatish plays on paradox: the beloved is covered in a hijaab (veil) but her beauty, filtered through the veil can kill like a bare sword even though her beauty is ‘sheathed’. Even the blameless seekers of a glimpse are killed. Her veiled beauty carries the sharpness of a bare sword.
11
us laala-ruu1 ke ruKh2 ke pasiine3 ko suuNghiye
aisi latiif4 buu5 nahiN aab-e-gulaab6 meN
1.tulip-faced, glowing 2.face 3.sweat 4.fine, delicate 5.fragrance 6.rosewater
The beloved has a beautiful glowing face, the colour of a tulip. Drops of sweat on her brow are like dew drops on petals. But the fragrance of these is far superior to the fragrance of rosewater.
12
Khat1 ke ye roNgTe2 nahiN ruKhsaar3-e yaar4 par
baal-aa-gaye5 haiN aaiina-e aaftaab6 meN
1.lines 2.hair follicles, goosebumps 3.cheek 4.beloved 5.appearance of hairline cracks 6.sun
The poet uses Khat ke roNgTe to mean fine lines, perhaps faint beginning of wrinkles on the beloved’s face. Thus, he claims that what you see on the beloved’s cheeks are not fine wrinkles, but that the aaiina-e aaftaab – the brilliant face of the beloved has developed hairline cracks like those in a mirror. This could also refer to the early method of making mirrors, before glass and reflective coating became available. Metal sheets were polished extremely finely to become a polished reflective surface, but still the lines of polishing would show up with time.
13
gulguun-e-yaar1 chaal2 hai chalta bahaar3 ki
gul’haa-e-baaGh4 rahte haiN uss ki rakaab5 meN
1.rose-colour of the beloved 2.gait, style of walking, trick 3.stirrup 4.flowers of the garden 5.stirrup
The beloved has a rose-coloured complexion. This complexion plays the same trick that spring does. All the flowers of the garden seem to follow the beloved – rakaab meN rahnaa means to follow the same track as someone. Thus, the beloved sets the example of beauty in the colourful garden.
14
jaan-e-aziiz1 kart’e haiN tum par nisaar2 hum
dil kis shumaar3 meN hai jigar4 kis hisaab5 meN
1.dear life 2.sacrifice, devotional offering 3.count 4.liver/forbearance 5.reckoning
In poetic tradition dil is the seat of life/love and jigar is the seat of courage/fortitude, self-control. Thus, the poet/lover declares – I sacrifice my precious life upon you, how can a mere heart or liver count for anything?
15
aaNkhoN ko gor1 meN bhi rahega Khayaal2-e yaar3
mushtaaq4 huN ziyaarat5-e yuusuf6 ka Khwaab meN
1.grave 2.thought 3.beloved 4.eager, yearn 5.blessed vision, visitation 6.Joseph (symbol of beauty)
Even in the grave, the poet’s eyes will remember the beloved. The dream of beholding yuusuf (the archetype of divine beauty) becomes the ultimate spiritual longing.
16
na-fahm1 shaa’eroN ne kaha hai jo hech2 us’e
zulfoN3 se vo kamar4 hai siva5 pech-o-taab6 meN
1.ignorant, uncomprehending 2.nothing, worthless 3.tresses of hair 4.waist 5.twists and turns, curls
In urdu poetic tradition often, the beloved’s waist is desribed as non-existent (so thin that it disappears. In a play of words, aatish suggests that poets call in hech – nothing. He says that only ignorant poets call her waist insignificant, but between the curls (zulfoN) and the waist (kamar) lies the ultimate play of pech o taab – twists and curves. On one level, it’s sensuous praise; symbolically, it’s about hidden perfection – divine beauty is subtle, not easily perceived by “na-fahm” minds.
17
be-yaar1 ghar nahiN lahad2-e taNg3 hai mujhe
roz aur shab4 firaaq5 se huN kis azaab6 meN
1.without the beloved 2.grave niche 3.narrow, confining 4.separation 5.torment
The poet bemoans that his house does not feel like a house but like a narrow grave without the beloved. The pain of separation – firaaq has left him so tormented that he feels confined even in his house.
18
mujh mast1 ko bahaar2 meN hai aarzu3 yahi
dariya-dili4 se saaqi ki tiiruN5 sharaab meN
1.intoxicated (with love or divine ecstasy) 2.spring 3.yearning 4.generosity, largeness of heart 5.swim
In poetic tradition springtime is a time of merriment, love, song and dance and of course drinking wine. This triggers a yearning in his heart – in the season of bahaar (spring), he desires such largess from the saaqi that he get enough wine to be able to swim in it.