Recitation
فسادات دیر و حرم دیکھتے ہیں ۔ جونؔ ایلیا
۱
ہے طرفہ قیامت جو ہم دیکھتے ہیں
ترے رُخ پہ آثارِ غم دیکھتے ہیں
۲
غضب ہے نشیب و فرازِ زمانہ
نہ تم دیکھتے ہو، نہ ہم دیکھتے ہیں
۳
تمنّا ہے اب ہم کو بے حُرمتی کی
سبھی کو یہاں محترم دیکھتے ہیں
۴
چلو بے کمند و کماں آج چل کر
غزالوں کا اندازِ رم دیکھتے ہیں
۵
یہی تو محبت ہے یارو کہ اب وہ
ہماری طرف کم سے کم دیکھتے ہیں
۶
خدایا ترے حُسنِ تقویم میں ہم
تضادِ وجُود و عدم دیکھتے ہیں
۷
نہ رُوٹھو جو لکھتے ہیں اوروں کو خط ہم
ذرا اپنا زورِ قلم دیکھتے ہیں
۸
عجب کچھ ہے وہ سطرِ موئے بنفشی
جو روئے بیاضِ شِکم دیکھتے ہیں
۹
کھڑے ہو کہ ہم وقت کے حاشیے پر
فسادات دیر و حرم دیکھتے ہیں
جونؔ ایلیا ۔ سید حسین جون اصغر (۱۹۳۱۔۲۰۰۲) کا تعلق امروہہ اور کراچی سے تھا۔ انہوں نے اپنی شروعاتی تعلیم مقامی مدرسوں ہی میں حاصل کی اور اپنے دادا (شفیق حسن ایلیا) سے اعلیٰ درجے کی اُردو، فارسی اور عربی سیکھی۔ انہوں نے ان تینوں زبانوں میں فاضل، عالم اور کامل کی ڈگریاں مکمل کیں۔ اس کے بعد الہٰ آباد سے اُردو، فارسی اور فلسفے میں ایم۔ اے کیا۔ ہندی اور انگریزی انہوں نے خود اپنی محنت سے سیکھی، جبکہ عبرانی (Hebrew) زبان باقاعدہ طور پر ایک عیسائی پادری سے سیکھی۔ وہ اپنے بڑے بھائی سے بہت زیادہ متاثر تھے جو کمیونسٹ پارٹی کے رکن تھے۔ ان کے تینوں بھائی تو پہلے ہی پاکستان ہجرت کر گئے، لیکن جون اپنے والدین کی وفات تک اُن کے ساتھ ہی رہے۔ بعد میں لوگوں کے اصرار پر وہ بڑی ناگواری اور ہچکچاہٹ کے ساتھ ۱۹۵۷ میں کراچی آ گئے، لیکن ان کا دل ہمیشہ اپنے وطن (امروہہ) کے لیے تڑپتا رہا۔ پاکستان میں انہوں نے ادب، ادارت (ایڈیٹنگ) اور پبلشنگ سے وابستہ کئی اداروں میں کام کیا۔ ۱۹۷۰ میں مشہور کالم نگار، افسانہ نگار اور ناول نگار زاہدہ حِنا سے شادی کی۔ ان کے تین بچے ہوئے، لیکن ۱۹۸۰ میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس طلاق کے بعد جونؔ شدید ڈپریشن (مایوسی) کا شکار ہو گئے۔ اُن کی تخلیق بہت وسیع ہے، لیکن اپنی زندگی میں انہوں نے اپنا صرف ایک ہی شعری مجموعہ شائع کیا۔ ان کا باقی سارا کلام ان کے انتقال کے بعد اکٹھا کر کے شائع کیا گیا، اور ان کی کتابوں کے نام ہی ان کی سوچ، سوال اٹھانے کی عادت اور بنی بنائی باتوں کو تسلیم نہ کرنے کے مزاج کو ظاہر کرتے ہیں—جیسے ‘شاید’، ‘یعنی’، ‘گمان’، ‘گویا’ اور اب ‘کیوں’۔ وہ مشاعروں میں بے حد مقبول تھے اور انہیں پڑھنے کے لیے پوری دنیا سے دعوتیں آتی تھیں۔
۱
ہے طرفہ۱ قیامت جو ہم دیکھتے ہیں
ترے رُخ پہ آثارِ غم دیکھتے ہیں
۱۔حیرت انگیز
شاعر ایک عجیب اور انوکھی قیامت یا مصیبت دیکھ رہا ہے ۔ محبوب کے چہرے پر غم کے آثار۔ روایتی اُردو شاعری میں محبوب کو ہمیشہ بے پروا، ظالم، یا عاشق کے دکھوں سے بالکل لاتعلق دکھایا جاتا ہے۔ ایسے میں محبوب کا خود اُداس ہونا اُس کی رِوایتی شخصیت کے بت کو توڑ دیتا ہے۔ یہ عاشق کے لیے ایک قیامت ہے کیونکہ وہ اپنی خوشی کے مرکز (محبوب) کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا، لیکن یہ بات ‘عجیب’ بھی ہے کیونکہ یہ اس مغرور محبوب کو ایک عام انسان بنا دیتی ہے۔ اگر ہم جونؔ کے باغیانہ انداز کو ذہن میں رکھیں، تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ یہاں خدا سے مخاطب ہوں؟ خدا کے ‘رُخ’ (چہرے) کا ذکر کرنا بظاہر غیر معمولی لگتا ہے، لیکن جونؔ کا اِشارہ چہرے کی طرف نہیں بلکہ ہمارے ذہنی تصوُّر کی طرف ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے، یہ شعر خدا کے ‘رحیم اور رحمان’ ہونے پر ایک گہرا طنز بن جاتا ہے کہ ایک طرف وہ رحیم ہے اور دوسری طرف زمین پر اتنی آفتیں اور قیامتیں ٹوٹ رہی ہیں۔
۲
غضب ہے نشیب۱ و فرازِ۲ زمانہ
نہ تم دیکھتے ہو، نہ ہم دیکھتے ہیں
۱۔اُتار ۲۔چڑھاؤ
یہ شعر اِنسان کی جہالت یا دانِستہ اندھے پن کی بات کرتا ہے۔ اِنسان وقت کے اُتار چڑھاؤ (نشیب و فرازِ زمانہ) کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ زندگی اور تاریخ مُسلسِل بدل رہے ہیں، جہاں روز بڑی بڑی سلطنتیں اُبھرتی ہیں اور پل بھر میں تباہ ہو جاتی ہیں، لیکن نہ ‘تم’ (خواہ وہ محبوب ہو یا یہ پورا سماج) اور نہ ‘ہم’ (شاعر خود یا ایک عام اِنسان) اس پر کوئی دھیان دیتے ہیں۔ یہ ہم سب کا ایک مشترکہ المیہ ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی چھوٹی موٹی ضرورتوں اور ذاتی دنیا میں اتنے کھوئے ہوئے ہیں کہ ہمارے اِردگِرد وقت کی جو اتنی بڑی اور تباہ کن گردش چل رہی ہے، ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔
۳
تمنّا ہے اب ہم کو بے حُرمتی۱ کی
سبھی کو یہاں محترم۲ دیکھتے ہیں
۱۔بے عزّتی ۲۔با عزّت
یہ شعر جونؔ ایلیا کے مخصوص طنزیہ اور باغیانہ انداز کا ایک نمونہ ہے، جہاں شاعر عزت کے بجائے اپنے لیے (یا کسی اور کے لیے) بے حُرمتی اور رُسوائی کی خواہش کر رہا ہے۔ اِس کے پیچھے اُن کی دلیل یہ ہے: وہ کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اِس دنیا میں ہر ایرے غیرے کو ‘محترم’ (عزت دار اور معزز) بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ چونکہ عزت اتنی سستی، عام اور سطحی ہو چکی ہے ۔ اور اکثر نااہل لوگوں میں بانٹی جا رہی ہے ۔ اس لیے اب اس کی کوئی سچی قدر نہیں رہی۔ چنانچہ، اس جھوٹی اور دکھاوے کی شرافت کے ہجوم سے الگ رہنے کے لیے، شاعر اب ان لوگوں کی عزت کرنے سے انکار کرتا ہے یا پھر خود رُسوا ہونا پسند کرتا ہے تاکہ وہ اس منافق ہجوم کا حِصّہ نہ رہے۔ اسے اس ہجوم سے الگ ہو کر رسوا ہونے پر فخر ہے۔
۴
چلو بے کمند۱ و کماں۲ آج چل کر
غزالوں۳ کا اندازِ رم۴ دیکھتے ہیں
۱۔رسّی، پھندہ ۲۔تیر کمان ۳۔ہرن ۴۔چھلانگ، دَوڑ
شاعر کسی کو (یا شاید اپنے آپ کو) دعوت دے رہا ہے کہ آج بغیر کسی پھندے/رسّی (کمند) یا کمان کے جنگل چلیں، تاکہ ہرنوں (غزالوں) کے بھاگنے اور کلیلیں بھرنے کا انداز (اندازِ رم) دیکھ سکیں۔ عام طور پر شکاری جنگل میں جانوروں کو پکڑنے یا مارنے جاتے ہیں۔ لیکن شاعر یہاں بغیر کسی ہتھیار کے جا کر اِس اندازِ خیال کو بدل دیتا ہے؛ اب مقصد کسی چیز کو تباہ کرنا، پانا یا قید کرنا نہیں، بلکہ خالص حُسن کی تعریف کرنا ہے۔ علامتی طور پر یہ شعر یہ سکھاتا ہے کہ حُسن، محبت یا آزادی کو پانے، جال میں پھنسانے یا غلام بنانے کی حسرت کے بغیر دیکھنا چاہیے، اور ایک مناسب فاصلے سے اس کی آزاد فطرت کا احترام کرتے ہوئے اس کی تعریف کرنی چاہیے۔
۵
یہی تو محبت ہے یارو کہ اب وہ
ہماری طرف کم سے کم دیکھتے ہیں
یہاں جونؔ نے یکطرفہ محبت کی مایوسی کو ایک بہترین اور طنزیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ اپنے دوستوں سے کہتا ہے کہ یہ بھی تو محبت کی ایک نشانی ہے کہ محبوب اب اس کی طرف ‘کم سے کم’ (بہت تھوڑا ہی سہی) دیکھتا تو ہے۔ ایک عاشق کی اُجڑی ہوئی دنیا میں، جہاں مکمّل نظرانداز کیا جانا ایک عام بات ہو، محبوب کی ایک سرسری یا بے رخی سے بھری نظر بھی بہت بڑی جیت مانی جاتی ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محبوب اب جان بوجھ کر عاشق سے نظریں چرا رہا ہے کیونکہ وہ اندر سے اس کی محبت سے واقف ہے یا کسی پشیمانی کا شکار ہے، اور یہ نظریں چرانا ہی اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ دل میں کچھ نہ کچھ تو ضرور ہے۔
۶
خدایا ترے حُسنِ تقویم۱ میں ہم
تضادِ۲ وجُود۳ و عدم۴ دیکھتے ہیں
۱۔ساخت، ڈھانچہ، انتظام ۲۔اُلٹا، contrary ۳۔موجودگی، حیات ۴۔ناموجودگی، موت
‘حسنِ تقویم’ کا مطلب وہ بہترین سانچہ یا خوبصورت ڈیزائن ہے جس میں خدا نے انسان اور اس کائنات کو پیدا کیا ہے۔ شاعر اس نظریے کو چیلنج کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس الٰہِیہ ڈیزائن کے اندر مجھے سب سے بڑا تضاد نظر آتا ہے: یعنی زندگی (وجود) اور مٹ جانے یا کچھ نہ ہونے (عدم) کی آپسی جنگ۔ یہ شعر اِنسانی زندگی کی کمزوری کو واضح کرتا ہے کہ ہم بنائے تو بہت خوبصورت گئے ہیں، لیکن ہم ہر وقت فنا اور مٹ جانے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے یاسؔ یگانہؔ چنگیزی نے کہا تھا:
روح گھبراتی ہے جب موت کا دھیان آتا ہے
چونک چونک اُٹھتے ہیں جب خوابِ عدم دیکھتے ہیں
۷
نہ رُوٹھو جو لکھتے ہیں اوروں کو خط ہم
ذرا اپنا زورِ قلم دیکھتے ہیں
شاعر بڑے شرارتی انداز میں اپنے شکّی محبوب کو منا رہا ہے کہ جب وہ دوسروں کو خط لکھے تو محبوب کو برا نہیں ماننا چاہیے۔ وہ اپنے اس فعل کا ایک بڑا مضحکہ خیز بہانہ پیش کرتا ہے کہ وہ دوسروں کو محبت کی وجہ سے خط نہیں لکھ رہا، بلکہ یہ تو بس اپنی لکھائی کی مشق ہے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ اس کے قلم میں کتنا دم (زورِ قلم) ہے۔ یہ ایک بڑا ذہین اور طنزیہ دفاع ہے جہاں شاعر اپنے لکھنے والے کی پہچان کو استعمال کر کے محبوب کو تھوڑا سا تڑپانا بھی چاہتا ہے اور ساتھ ہی معصوم بن کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تو بس ایک ادبی مشق تھی۔
۸
عجب کچھ ہے وہ سطرِ۱ موئے۲ بنفشی۳
جو روئے۴ بیاضِ۵ شِکم۶ دیکھتے ہیں
۱۔لائین، لکیر، خط ۲۔بال ۳۔بنفشہ کا رنگ، گہرہ، کالا ۴۔چہرہ، سطح ۵۔کتاب، کاغذ ۶۔پیٹ
یہ شعر روایتی اور جسمانی حُسن کی تعریف کے ساتھ ساتھ فن اور شاعری کے ایک گہرے فلسفے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ بظاہر شاعر محبوب کے گورے پیٹ (بیاضِ شکم) پر لٹکتے بال کی ایک خوبصورت اور گہرے رنگ کی لکیر (سطرِ موئے بنفشی) کا ذکر کر رہا ہے، جسے وہ ایک صاف اور کورے صفحے (روئے بیاض) سے تشبیہ دیتا ہے۔ یہ اِنسانی جسم کی خوبصورتی کا ایک بڑا نازک منظر ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے تخیُّل کو تھوڑی سی وسعت دیں، تو اس صاف صفحے پر چلنے والی لکیر محبوب کے خم دار بال کی لکیر کے ساتھ ساتھ قلم کی سطر بھی بن جاتی ہے۔ شاعر شاید یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ اسے حسن کے اندر ہی شاعری نظر آتی ہے۔ وہ فن کی تخلیق کے اس خوبصورت لمحے کو قدرت کے ایک آئینے کے طور پر دکھا رہا ہے، جہاں ایک خالی کینوس پر کھینچی گئی ایک اکیلی خوبصورت لکیر پوری زندگی کو ایک نئے معنی دے دیتی ہے۔
۹
کھڑے ہو کہ ہم وقت کے حاشیے۱ پر
فسادات۲ دیر۳ و حرم۴ دیکھتے ہیں
۱۔کنارہ، کونا ۲۔فتنہ، جھگڑا، سازش ۳۔مندر ۴۔مسجد
یہ آخری شعر اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ہماری شاعری کی زبانی روایت (پڑھنے کا انداز) اور الفاظ کا چناؤ کتنا اہم ہے۔ اگر آپ ‘کھڑے ہو’ کو ایک ملامت یا الزام کے لہجے میں پڑھیں اور وہاں تھوڑا سا رکیں (جیسے کوئی comma لگا ہو)، تو یہ لائن ایک دم ایک سخت اعتراض بن جاتی ہے: “تم وہاں دور کھڑے تماشا دیکھ رہے ہو، جبکہ ہم وقت کے حاشیے یا فٹ نوٹ پر پڑے ہوئے مندر اور مسجد (تمام مذاہب) کے ان جھگڑوں اور سازشوں کو جھیل رہے ہیں۔” اب سوال یہ ہے کہ یہ الزام کس پر ہے؟ (الف) خدا پر، جو خاموش تماشائی بنا ہوا ہے اور جس نے شاید ایسے مذہبی نظام بنا کر ان جھگڑوں کی بنیاد رکھی۔ (ب)طاقتور طبقے، سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں پر، جو خود یہ شرارتیں شروع کرتے ہیں اور پھر اوپر بیٹھ کر تماشا دیکھتے ہیں۔ (پ)خود اس معاشرے پر، جو بزدل تماشائی بن چکا ہے اور اس بربادی کو روکنے کے بجائے خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔ اسی خیال کو تھوڑے الگ انداز میں الزبت کورین موناؔ نے یوں لکھا ہے:
ہمیشہ جو دیر و حرم دیکھتے ہیں
کہاں دوسروں کا وہ غم دیکھتے ہیں
फ़सादात-ए दैर-ओ-हरम देखते हैं – जौन एलिया
१
है तुर्फ़ा क़यामत जो हम देखते हैं
तेरे रुख़ पे आसार-ए ग़म देखते हैं
२
ग़ज़ब है नशेब-ओ-फ़राज़-ए ज़माना
न तुम देखते हो, न हम देखते हैं
३
तमन्ना है अब हम को बे-हुरमती की
सभी को यहाँ मोहतरम देखते हैं
४
चलो बे-कमंद-ओ-कमां आज चल कर
ग़ज़ालों का अंदाज़-ए रम देखते हैं
५
यही तो मोहब्बत है यारो के अब वो
हमारी तरफ़ कम से कम देखते हैं
६
ख़ुदाया तेरे हुस्न-ए तक़्वीम में हम
तज़ाद-ए वुजूद-ओ-अदम देखते हैं
७
न रूठो जो लिखते हैं औरों को ख़त हम
ज़रा अपना ज़ोर-ए क़लम देखते हैं
८
अजब कुछ है वो सतर-ए मू-ए बनफ़्शी
जो रू-ए बयाज़-ए शिकम देखते हैं
९
खड़े हो के हम वक़्त के हाशिए पर
फ़सादात-ए दैर-ओ-हरम देखते हैं
जौन एलिया – सय्यद हुसैन जौन अस्ग़र (१९३१-२००२)। उन का ताल्लुक़ अमरोहा और कराची से था। उन्होंने अपनी शुरुआती शिक्षा स्थानीय स्तर पर ही हासिल की और अपने दादा (शफ़ीक़ हसन एलिया) से उच्च स्तर की उर्दू, फ़ारसी और अरबी सीखी। उन्होंने इन तीनों भाषाओं में फ़ाज़िल, आलिम और कामिल की डिग्रियां पूरी कीं। इस के बाद उन्होंने इलाहाबाद से उर्दू, फ़ारसी और दर्शनशास्त्र (Philosophy) में एम-ए किया। हिंदी और अंग्रेज़ी उन्होंने ख़ुद अपनी मेहनत से सीखी, जबके इब्रानी (Hebrew) भाषा बाक़ा’एदा तौर पर एक ईसाई पादरी से सीखी। वो अपने बड़े भाई से बहुत ज़्यादा प्रभावित थे जो कम्युनिस्ट पार्टी के सदस्य थे। उन के तीनों भाई तो पहले ही पाकिस्तान चले गए थे, लेकिन जौन अपने माता-पिता की मौत तक उन्हीं के साथ रहे। बाद में लोगों के समझाने पर वो बड़ी हिचकिचाहट के साथ १९५७ में कराची आ गए, लेकिन उनका दिल हमेशा अपने वतन (अमरोहा) के लिये तड़पता रहा। पाकिस्तान में उन्होंने साहित्य, संपादन (Editing) और पब्लिशिंग से जुड़े कई संस्थानों में काम किया। १९७० में उन्होंने मशर कॉलम लेखक, कहानीकार और उपन्यासकार ज़ाहिदा हिना से शादी की। उनके तीन बच्चे हुए, लेकिन १९८० में उन का तलाक़ हो गया। इस तलाक़ के बाद जौन गहरे डिप्रेशन (अवसाद) में चले गए। उन्हों ने बहुत से अश’आर, नज़्में और ग़ज़ल लिक्खीं, लेकिन अपने जीवनकाल में उन्होंने अपना सिर्फ़ एक ही कविता-संग्रह (मजमुआ) प्रकाशित किया। उनका बाक़ी सारा काम उनकी मृत्यु के बाद इकट्ठा करके छपवाया गया, और उन की किताबों के नाम ही उनके खोजी दिमाग़, सवाल उठाने की आदत और पारंपरिक मान्यताओं को मानने से इन्कार करने के मिज़ाज को दिखाते हैं—जैसे ‘शा’एद’, ‘यानी’, ‘गुमान’, ‘गोया’ और अब ‘क्यूं’। वो मुशा’एरों में बेहद लोकप्रिय थे और उन्हें कविता पाठ के लिये पूरी दुनिया से बुलावा आता था।
१
है तुर्फ़ा१ क़यामत जो हम देखते हैं
तेरे रुख़२ पे आसार३-ए ग़म देखते हैं
१-हैरान करने वाली, अजीब २-मुख, चेहरा ३-संकेत, निशान
शा’एर एक बहुत ही अजीब और अनोखी आफ़त या क़यामत (तुर्फ़ा क़यामत) देख रहा है – महबूब के चेहरे पर उदासी के निशान (आसार-ए ग़म)। पारंपरिक उर्दू शा’एरी में महबूब को हमेशा लापरवाह, ज़ालिम या आशिक़ के दुखों से अंजान दिखाया जाता है। ऐसे में महबूब का उदास होना उस की शख़्सियत के बुत को तोड़ देता है। ये आशिक़ के लिये एक क़यामत है क्यूंके वो अपनी ख़ुशी के केंद्र (महबूब) को तकलीफ़ में नहीं देख सकता, लेकिन ये बात ‘अजीब’ भी है क्यूंके ये उस मग़्रूर महबूब को एक आ’म इंसान बना देती है। अगर हम जौन के बाग़ी अंदाज़ को ध्यान में रखें, तो क्या ये मुमकिन है के वो यहाँ ख़ुदा से बात कर रहे हों? ख़ुदा के ‘रुख़’ (चेहरे) का ज़िक्र करना वैसे तो बहुत अजीब लगता है, लेकिन जौन का इशारा किसी चेहरे की तरफ़ नहीं बल्के हमारी मानसिक धारणा की तरफ़ हो सकता है। इस नज़रिए से, ये शे’र ख़ुदा के ‘रहीम और रहमान’ होने पर एक गहरा व्यंग्य (तंज़) बन जाता है के एक तरफ़ उसे दयालु कहा जाता है और दूसरी तरफ़ दुनिया पर इतनी आफ़तें और क़यामतें टूट रही हैं।
२
ग़ज़ब१ है नशेब२-ओ-फ़राज़३-ए ज़माना
न तुम देखते हो, न हम देखते हैं
१-बला, सितम, आफ़त २-उतार ३-चढ़ाऊ
ये शे’र इंसान की उस नासमझी या जान-बूझ कर ओढ़े गए अंधेपन की बात करता है जो वो वक़्त के उतार-चढ़ाऊ (नशेब-ओ-फ़राज़-ए ज़माना) के मामले में दिखाता है। ज़िंदगी और इतिहास लगातार बदल रहे हैं, जहाँ रोज़ बड़े-बड़े बदलाऊ आते हैं और तबाही मचती है, लेकिन न ‘तुम’ (चाहे वो महबूब हो या ये पूरा समाज) और न ‘हम’ (शा’एर ख़ुद या एक आ’म इंसान) इस पर कोई ध्यान देते हैं। ये हम सब का एक साझा दुख है के हम अपनी रोज़मर्रा की छोटी-मोटी ज़रूरतों और अपनी निजी दुनिया में इतने खोए हुए हैं के हमारे चारों तरफ़ वक़्त का जो इतना बड़ा चक्र चल रहा है, हमें उस का एहसास तक नहीं होता।
३
तमन्ना१ है अब हम को बे-हुरमती२ की
सभी को यहाँ मोहतरम३ देखते हैं
१-इच्छा २-बेइज़्ज़ती ३-आदरणीय
ये शे’र जौन एलिया के ख़ास तंजिया और बाग़ी अंदाज़ का एक बेहतरीन नमूना है, जहाँ शा’एर इज़्ज़त के बजाय अपने लिये (या किसी और के लिये) बेइज़्ज़ती और रुस्वाई (बे-हुरमती) की ख़्वाहिश कर रहा है। इस के पीछे उन की दलील बड़ी तीखी है: वो कहते हैं के मैं देख रहा हूँ के इस दुनिया में हर ऐरे-ग़ैरे को ‘मोहतरम’ (इज़्ज़तदार और सम्मानित) बना कर पेश किया जा रहा है। चूंके इज़्ज़त इतनी सस्ती, आ’म और उथली हो चुकी है – और अक्सर नाला’एक़ लोगों में बाँटी जा रही है – इस लिये अब उसकी कोई सच्ची क़ीमत नहीं रही। इस लिये, इस झूठी और दिखावे की शराफ़त की भीड़ से अलग दिखने के लिये, शा’एर अब इन लोगों को इज़्ज़त देने से इन्कार करता है या फिर ख़ुद रुस्वा होना पसंद करता है ताके वो इस पाखंडी भीड़ का हिस्सा न रहे। उसे इस भीड़ से अलग हो कर बदनाम होने पर गर्व है।
४
चलो बे-कमंद१-ओ-कमां२ आज चल कर
ग़ज़ालों३ का अंदाज़४-ए रम५ देखते हैं
१-रस्सी, फंदा २-धनुष ३-हिरण ४-तरीक़ा, शैली ५-छलांग, दौढ
शा’एर किसी को (या शा’एद अपने आप को) न्योता दे रहा है के आज बिना किसी फंदे/रस्सी (कमंद) या धनुष (कमान) के जंगल चलें, ताके हिरणों (غزالوں/ग़ज़ालों) के भागने और कुलांचें भरने का अंदाज़/तरीक़ा (अंदाज़-ए रम) देख सकें। आ’म तौर पर शिकारी जंगल में जानवरों को पकड़ने या मारने जाते हैं। लेकिन शा’एर यहाँ बिना किसी हथियार के जा कर पूरे मक़्सद को ही बदल देता है; अब मक़्सद किसी चीज़ को तबाह करना, पाना या क़ैद करना नहीं, बल्के उस की शुद्ध सुंदरता की तारीफ़ करना है। प्रतीकात्मक तौर पर (symbolically) ये शे’र ये सिखाता है के सुंदरता, मोहब्बत या आज़ादी को पाने, जाल में फंसाने या वश में करने की हसरत के बिना देखना चाहिये, और एक मुनासिब दूरी से उस की आज़ाद फ़ितरत का सम्मान करते हुए उस की सराहना करनी चाहिए।
५
यही तो मोहब्बत है यारो के अब वो
हमारी तरफ़ कम से कम देखते हैं
यहाँ जौन ने एकतरफ़ा मोहब्बत की मायूसी को एक बहुत ही ख़ूबसूरत और व्यंग्यात्मक अंदाज़ में पेश किया है। वो अपने दोस्तों से कहते हैं के ये भी तो मोहब्बत की एक निशानी है के महबूब अब उनकी तरफ़ ‘कम से कम’ (बहुत थोड़ा ही सही) देखता तो है। एक आशिक़ की उजड़ी हुई दुनिया में, जहाँ पूरी तरह अनदेखा किया जाना एक आ’म बात हो, महबूब की एक उड़ती हुई या बेरुख़ी से भरी नज़र भी बहुत बड़ी जीत मानी जाती है। इस का दूसरा पहलू ये भी हो सकता है के महबूब अब जानबूझ कर आशिक़ से नज़रें चुरा रहा है क्यूंके वो अंदर से उस की मोहब्बत से वाक़िफ़ है या किसी अपराध-बोध (पछतावे) का शिकार है, और ये नज़रें चुराना ही अपने आप में इस बात का सुबूत है के दिल में कुछ न कुछ ज़रूर है।
६
ख़ुदाया तेरे हुस्न१-ए तक़्वीम२ में हम
तज़ाद३-ए-वुजूद४-ओ-अदम५ देखते हैं
१-सुंदरता, कौशल २-इन्तेज़ाम, डिज़ाईन ३-उलट फेर, विरोध ४-अस्तित्व ५-ग़ैर-अस्तित्व
‘हुस्न-ए तक़्वीम’ का मतलब उस बेहतरीन सांचे या ख़ूबसूरत डिज़ाइन से है जिस में ख़ुदा ने इंसान और इस दुनिया को बनाया है। शा’एर इस आदर्श धारणा को चुनौती देते हुए कहता है के इस ईश्वरीय डिज़ाइन के अंदर मुझे सब से बड़ा विरोधाभास (तज़ाद) नज़र आता है: यानी ज़िंदगी (वुजूद) और मौत/फ़ना/मिट जाना/विनाश (अदम) की आपसी जंग। ये शे’र इंसानी ज़िंदगी की कमज़ोरी को साफ़ करता है के हम बनाए तो बहुत ख़ूबसूरत गए हैं, लेकिन हम हर वक़्त विनाश और शून्यता के कगार पर खड़े हैं। बिल्कुल इसी तरह जैसे यास यगाना चंगेज़ी ने कहा था:
रूह घबराती है जब मौत का ध्यान आता है
चौंक चौंक उठते हैं जब ख़्वाब-ए अदम देखते हैं
७
न रूठो जो लिखते हैं औरों को ख़त हम
ज़रा अपना ज़ोर१-ए क़लम२ देखते हैं
१-बल, ताक़त २-लेखनी, pen
शा’एर बड़े शरारती अंदाज़ में अपने जलने (रश्क करने) वाले महबूब को मना रहा है के जब वो दूसरों को ख़त लिखे तो महबूब को बुरा नहीं मानना चाहिये। वो अपने इस काम का एक बड़ा मज़ाक़िया बहाना पेश करता है के वो दूसरों को मोहब्बत का ख़त नहीं लिख रहा, बल्के ये तो बस अपने लेख की मश्क़ (प्रैक्टिस) है ताके वो देख सके के उस के क़लम में कितना दम (ज़ोर-ए क़लम) है। ये एक बड़ा चतुर और मज़ाक़िया बचाव है जहाँ शा’एर लेखक होने के अपने इस हुनर का इस्तेमाल कर के महबूब को थोड़ा सा तड़पाना भी चाहता है और साथ ही मासूम बनकर ये ज़ाहिर करता है के ये तो बस एक साहित्यिक अभ्यास था।
८
अजब कुछ है वो सतर१-ए मू२-ए बनफ़्शी३
जो रू४-ए बयाज़५-ए शिकम६ देखते हैं
१-पंक्ती, line २-बाल ३-गहरा ऊदा/काला रंग ४-मुख, सत’ह ५-पन्ना, काग़ज़, किताब ६-पेट
ये शे’र पारंपरिक और शारीरिक सुंदरता की तारीफ़ के साथ-साथ कला और कविता के एक गहरे दर्शन को अपने अंदर समेटे हुए है। ऊपरी तौर पर शा’एर महबूब के गोरे पेट (बयाज़-ए शिकम) पर मौजूद बाल की एक ख़ूबसूरत और गहरी लकीर (सतर-ए मू-ए बनफ़्शी) का ज़िक्र कर रहा है, जिसे वो एक साफ़ और कोरी किताब के पन्ने (रू-ए बयाज़) से तुलना करता है। ये इंसानी जिस्म की ख़ूबसूरती का एक बहुत ही नफ़ीस नज़ारा है। लेकिन अगर हम अपनी कल्पना को थोड़ा सा विस्तार दें, तो उस साफ़ पन्ने पर चलने वाली लकीर महबूब के बालों की लकीर के साथ-साथ क़लम के लेख की लकीर भी बन जाती है। शा’एर शा’एद ये कहना चाह रहे हैं के उन्हें सुंदरता के अंदर ही कविता नज़र आती है। वो कला की रचना के इस ख़ूबसूरत लम्हे को क़ुदरत के एक आईने के रूप में दिखा रहे हैं, जहाँ एक साफ़ कैनवास पर खींची गई एक अकेली ख़ूबसूरत पंक्ती/शब्द-धारा पूरी ज़िंदगी को एक नया अर्थ दे देती है।
९
खड़े हो के हम वक़्त के हाशिए१ पर
फ़सादात२-ए दैर३-ओ-हरम४ देखते हैं
१-किनारे २-दंगा, साज़िश ३-मंदिर ४-मस्जिद
ये आख़िरी शे’र इस बात का बेहतरीन उदाहरण है के हमारी कविता की मौखिक परंपरा (बोलने और सुनने के अंदाज़) और शब्दों का चुनाव कितना अहम है। अगर आप ‘खड़े हो’ को एक शिका’एत या इल्ज़ाम के लहज़े में पढ़ें और वहाँ थोड़ा सा रुकें (जैसे कोई comma लगा हो), तो ये लाइन एक झटके में एक कड़ा विरोध बन जाती है: “तुम वहाँ दूर खड़े तमाशा देख रहे हो, जब के हम वक़्त के हाशिए (फ़ुटनोट) पर पड़े हुए मंदिर और मस्जिद (दैर-ओ-हरम) के इन झगड़ों, दंगों और साज़िशों को झेल रहे हैं।” अब सवाल ये है के ये आरोप किस पर है? (क)ख़ुदा पर, जो चुपचाप तमाशा देख रहा है और जिस ने शा’एद ऐसे धार्मिक तौर-तरीक़े बना कर इन झगड़ों की बुनियाद रखी। (ख)ताक़तवर तबक़े, राजनेताओं और कट्टरपंथियों पर, जो ख़ुद ये शरारतें शुरू करते हैं और फिर सुरक्षित ऊपर बैठकर तमाशा देखते हैं। (ग)ख़ुद इस समाज पर, जो डरपोक तमाशबीन बन चुका है और इस बर्बादी को रोकने के बजाए चुप्पी साधे सब देख रहा है। इसी विचार को थोड़े अलग अंदाज़ में एलिजाबेथ कुर्यन ‘मोना’ ने यूँ लिखा है:
हमेशा जो दैर-ओ-हरम देखते हैं
कहाँ दूसरों का वो ग़म देखते हैं
fasaadaat-e dair-o-haram dekht’e haiN – jaun elia
1
hai turfa qayaamat jo hum dekht’e haiN
ter’e ruKh pe aasaar-e Gham dekht’e haiN
2
Ghazab hai nash’eb-o-faraaz-e zamaana
na tum dekht’e ho, na hum dekht’e haiN
3
tamanna hai ab hum ko be-hurmati ki
sabhi ko yahaaN mohtaram dekht’e haiN
4
chalo be-kamand-o-kamaaN aaj chal kar
GhazaaloN ka andaaz-e ram dekht’e haiN
5
yahi to mohabbat hai yaaro keh ab vo
hamaari taraf kam se kam dekht’e haiN
6
Khudaaya ter’e husn-e taqviim meN hum
tazaad-e vujood-o-adam dekht’e haiN
7
na rooTho jo likht’e haiN auroN ko Khat hum
zara apna zor-e qalam dekht’e haiN
8
ajab kuchh hai vo sat’r-e muu-e banafshi
jo ruu-e bayaaz-e shikam dekht’e haiN
9
khaR’e ho keh hum vaqt ke haashiye par
fasaadaat-e dair-o-haram dekht’e haiN
jaun aelia – syed husain jaun asGhar (1931-2002), amroha and karachi. He received schooling locally, learning advanced urdu, faarsi and arabi from his grandfather (shafiiq hasan aelia), completing faazil, aalim and kaamil degrees in all three. He completed his MA in urdu, faarsi and philosophy from allahahad, acquired hindi and English by educating himself and formally learnt Hebrew from a Christian pastor. He was strongly influenced by his older brother who was a member of the communist party. His brothers migrated to pakistan, but he stayed with his parents until after their death. He was persuaded and reluctantly migrated to karachi in 1957 but always pined for his homeland. In pakistan he worked in several institutions associated with literature, editing and publishing; married zaahida hina, columnist, short story writer, novelist in 1970. They had three children, but were divorced in 1980. jaun was quite depressed following his divorce. He was a prolific poet but published only one collection during his lifetime. His work was collected and published posthumously with titles that reflect his inquiring mind and refusal to accept received wisdom – shaa’ed, yaani, gumaan, goya and now kyuN. He was very popular as a mushaa’era poet and invited all over the world.
1
hai turfa1 qayaamat2 jo hum dekht’e haiN
ter’e ruKh3 pe aasaar4-e Gham5 dekht’e haiN
1.strange, surprising 2.calamity 3.face 4.effects, indications 5.pain
The poet describes a strange, unique kind of calamity (turfa qayaamat) that he is witnessing: seeing signs of sadness (aasaar-e Gham) on the beloved’s face. In classical urdu poetry, the beloved is typically seen as indifferent, cruel, or blissfully detached from the lover’s suffering. For the beloved to exhibit sorrow implies a shattering of that divine, untouchable persona. It is a calamity because the lover cannot bear to see the source of their joy in pain, yet it is “strange” because it humanizes the otherwise aloof beloved. Given jaun’s irreverence, could it be that he is talking about god? It would be unusual to talk about the ruKh of god, but jaun could be referring not literally to the visual face but to the mental perception. Thus, this could be a sarcasm about the god being rahiim and rahmaan while visiting calamities on earth.
2
Ghazab1 hai nash’eb-o-faraaz2-e zamaana3
na tum dekht’e ho, na hum dekht’e haiN
1.curse, afflication 2.ups and downs, rise and fall 3.times, world, life
This couplet speaks to the profound ignorance or willful blindness of humanity regarding the highs and lows, or the vicissitudes of time (nash’eb-o-faraaz-e zamaana). Life and history are constantly shifting, full of dramatic rises and catastrophic falls, yet both you-tum (the beloved, or society at large) and I/we-hum (the poet, or the individual) remain completely oblivious to it. It highlights a shared human tragedy: we are so consumed by our immediate, personal realities that we fail to notice the grand, devastating rhythm of time moving around us.
3
tamanna1 hai ab hum ko be-hurmati2 ki
sabhi ko yahaaN mohtaram3 dekht’e haiN
1.desire 2.disrespect, disgrace 3.respected, honoured
In a classic display of jaun aelia’s trademark cynicism and subversion, the poet expresses a desire to disrespect or disgrace (be-hurmati) someone (or himself). Who? His reasoning is biting: he observes that absolutely everyone in this world is treated as respectable, dignified, or honorable (mohtaram). Because honour has become so cheap, common, and superficial—often awarded to the undeserving—it has lost its true value. To stand out from the crowd of fake, performative respectability, the poet would refuse to recognize their respectability (or would rather be disgraced himself, so that he does not remain part of the crowd; he is proud to be disgraced).
4
chalo be-kamand1-o-kamaaN2 aaj chal kar
GhazaaloN3 ka andaaz4-e ram5 dekht’e haiN
1.rope, noose 2.arrow (as in bow and arrow) 3.deer, antelope 4.style 5.leaping/darting
The poet invites someone (or he may be speaking to himself) to go out without any ropes/noose (kamand) or bows (kamaaN) to observe the flight or scattering (andaaz-e ram) of the deer (GhazaaloN). Traditionally, hunters go into the wild to capture or kill. By going unarmed, the poet shifts the intent from destruction/possession/capture to pure aesthetic appreciation. Symbolically, it suggests approaching beauty, love, or freedom without the desire to possess, trap, or tame it, but rather to admire its untamed essence from a respectful distance.
5
yahi to mohabbat hai yaaro keh ab vo
hamaari taraf kam se kam dekht’e haiN
Here, jaun employs a brilliant touch of irony regarding the despair of unrequited love. He tells his friends that it is a sign of love that the beloved looks at him “at least a little bit” (kam se kam), or with minimal attention. In the harsh reality of the lover’s world, where complete neglect is the norm, even a fleeting, dismissive glance from the beloved is celebrated as a massive victory. Alternatively, it implies that the beloved is deliberately avoiding his gaze out of a sense of conscious awareness or guilt, which itself is a twisted confirmation of feelings.
6
Khudaaya ter’e husn1-e taqviim2 meN hum
tazaad3-e vujood4-o-adam5 dekht’e haiN
1.beauty, finesse 2.design, arrangement 3.conflict, opposites 4.existence 5.non-existence
husn-e taqviim refers to the “perfect mold” or “beautiful design” in which god is said to have created human beings and the world they live in. The poet challenges this ideal framework by stating that within this divine design, he sees the ultimate contradiction: the conflict between existence (vujood) and non-existence or nothingness (adam). It highlights the inherent fragility of human life – we are beautifully made, yet constantly walking on the brink of annihilation and existential emptiness. Says yaas yagaana chaNgezi …
rooh ghabraati hai jab maut ka dhyaan aata hai
chauNk chauNk uTht’e haiN jab Khwaab-e adam dekht’e haiN
7
na rooTho1 jo likht’e haiN auroN ko Khat2 hum
zara apna zor3-e qalam4 dekht’e haiN
1.annoyed, upset 2.letter, message 3.power 4.pen
The poet playfully coaxes his jealous beloved not to get upset when he writes letters to others. He jokingly excuses his behavior by claiming that he isn’t writing to them out of affection, but merely to practice and test the power of his pen (zor-e qalam). It is a witty, tongue-in-cheek defense that uses his identity as a writer to mask a bit of deliberate provocation, trying to stir up the beloved’s jealousy while maintaining an air of innocent literary exercise.
8
ajab1 kuchh hai vo sat’r2-e muu3-e banafshi4
jo ruu5-e bayaaz6-e shikam7 dekht’e haiN
1.unusual, fascinating 2.line 3.hair 4.dark, deep violet colour 5.face 6.blank page/book 7.abdomen
This she’r elegantly balances highly classical, sensual imagery with a profound symbolic meditation on art. On the surface, the poet describes the exquisite physical beauty of a fine, violet-tinted line of hair (sat’r-e muu-e banafshi) running down the fair, white abdomen of the beloved, which he compares to the pristine page of a blank notebook (ruu-e bayaaz-e shikam). However, by viewing this visual image through the lens of creative inspiration, the boundary between the body and the book dissolves; the strand of hair becomes curly and indistinguishable from a finely penned line of calligraphy. jaun is ultimately suggesting that he sees poetry itself embedded within physical beauty – framing the sublime moment of artistic creation as a mirror to the natural world, where a single stroke of elegance gives meaning to an empty canvas.
9
khaR’e ho keh hum vaqt ke haashiye1 par
fasaadaat2-e dair3-o-haram4 dekht’e haiN
1.margins, footnotes 2.conspiracies, riots 3.temple 4.mosque
This concluding she’r serves as an extraordinary illustration of the criticality of the oral tradition and the profound nuances of poetic diction. By executing a slight, deliberate pause – akin to a comma – after the opening phrase “khaR’e ho,” and delivering it with an accusatory cadence, the line completely transforms from a passive personal statement into a fierce external indictment: “You stand aloof, while we, on the margins of time, witness these conflicts.” jaun leaves the target of this accusation intentionally ambiguous, creating a triple-edged sword that cuts across different layers of reality. He is simultaneously accusing god for designing conflicting faith systems and remaining a silent spectator to the resulting bloodshed; the powerful elite (political and orthodox leadership) for engineering the mischief and watching safely from above; and society itself for its cowardly bystander effect, paralyzing itself with indifference while the fabric of humanity is torn apart. In a slight variation of this thought Elizabeth Kurien mona writes …
hamesha jo dair o haram dekht’e haiN
kahaaN doosrauN ka vo Gham dekht’e haiN